سندھ میں90فیصد پانی پینے کے قابل نہیں، سپریم کورٹ

September 8, 2017 4:17 pmViews: 6

پینے کے شفاف پانی کی فراہمی سے متعلق حکومت سندھ کی پیش کردرہ رپورٹ مسترد
ہمیں کاغذی کارروائی نہیں نتائج درکار ہیں ، عوام کا پیسہ عوام پر خرچ ہونا چاہئے، عدالتی ریمارکس
کراچی(اسٹاف رپورٹر) سپریم کورٹ نے سندھ میں پینے کے شفاف پانی کی فراہمی سے متعلق حکومت سندھ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ مسترد کردی۔ جج نے معاملے کی سماعت کیلئے چیف جسٹس سے خصوصی بنچ تشکیل دینے کی سفارش کی ہے۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں معاملے کی سماعت کے موقع پر نساسک کے سکھر اور روہڑی میں جاری دو منصوبوں سے متعلق حکومت سندھ نے رپورٹ پیش کی۔ عدالت عظمیٰ نے رپورٹ پر عدم اطمینان کااظہار کرتے ہوئے رپورٹ مسترد کردی اور اپنے حکم میں کہا کہ جامع اور مستند رپورٹ پیش کی جائے کہ آیا ان منصوبوں پر پیشرفت ہوئی ہے یا نہیں ہوئی۔ جسٹس فیصل عرب نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ سندھ میں90 فیصد پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔ جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں کاغذی کارروائی نہیں نتائج درکار ہیں۔ جسٹس مشیر عالم کا کہنا تھا کہ ایسی آڈٹ رپورٹ کا کیا فائدہ جس کے ثمرات عوام تک نہ پہنچیں۔ عوام کا پیسہ عوام پر خرچ ہونا چاہئے۔ سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ ضمیر گھمرو نے اپنے دلائل میں کہا کہ فارنزک رپورٹ کے حوالے سے ایک پرائیویٹ کمپنی نے حامی بھرلی ہے۔