شریف فیملی اور اسحاق ڈار کو قید اور نااہلی کی سزا ہوسکتی ہے ریفرنس آج دائر ہونگے

September 8, 2017 4:20 pmViews: 6

چار ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری
سابق وزیراعظم کے خلاف تین ریفرنسز میں نیب آرڈیننس کی دفعہ 9اے لگائی گئی ہے،اس میں سزا14سال قید ہے
وفاقی وزیر خزانہ کیخلاف ریفرنس میں آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام ہے، جرم ثابت ہونے پر تاحیات نااہلی اور قید کی سزا ہوگی
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) قومی احتساب بیورو نے نواز فیملی اور اسحاق ڈار کے خلاف 4 ریفرنسز دائر کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی۔ چاروں ریفرنسز آج بروز جمعہ راولپنڈی اور اسلام آباد کی احتساب عدالتوں میں دائر کردیے جائیں گے، تاہم ان میں حدیبیہ پیپرز مل ریفرنس شامل نہیں۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں لاہور ہائی کورٹ فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے اور اس کے فیصلے سے مشروط کردیا ہے۔ نیب ذرائع کے مطابق نواز فیملی کے خلاف نیب آرڈیننس 1999ء کی کرپشن اور جعلسازی کی دفعات لگائی گئی ہیں جن کے تحت جرم ثابت ہونے پر سابق وزیراعظم، ان کے بچوں اور اسحاق ڈار کو 14 برس تک قید، تاحیات نااہلی کی سزا ہوسکتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ نیب ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں نیب لاہور کے ڈی جی میجر اور شہزاد سلیم کو ویڈیو لنک پر لیا گیا تھا۔ نیب راولپنڈی کی جانب سے شریف خاندان کی ملکیت میں 11 کمپنیوں اور دوسرا عزیزیہ مل کی خرید و فروخت کے معاملے پر ریفرنس دائر کیا جائے گا، جبکہ نیب لاہور نواز شریف، حسن، حسین، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف ایون فیلڈ اپارٹمنٹس لندن کے حوالے سے ریفرنس دائر کرے گا، جبکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں پر ریفرنس دائر کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں احتساب عدالت 6 ماہ میں چاروں ریفرنسز کا فیصلہ سنانے کی پابند ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف تینوں ریفرنسوں میں نیب آرڈیننس کی دفعہ 9-A لگائی گئی ہے۔ یہ دفعہ غیر قانونی رقوم اور تحائف کی ترسیل سے متعلق ہے۔ نیب لاہور اور راولپنڈی نے دفعہ 9-A کی تمام 14 ذیلی دفعات کو شامل کیا ہے۔ سیکشن 9-A کی ہر دفعہ کی سزا 14 سال قید ہے۔ مریم نواز کے خلاف تحقیقات میں عدم معاونت پر نیب کی سیکشن 31-A لگائی گئی ہے۔ مریم نواز کے خلاف جعلی دستاویزات دینے کے الزام میں بھی اضافی دفعات لگائی گئی ہے جس کے تحت 14 سال قید کے ساتھ مزید 3 سال کی سزا ہوسکتی ہے۔ نواز فیملی کے خلاف 3 ریفرنسوں میں پارک لین اپارٹمنٹ، 16 آف شور کمپنیوں اور عزیزیہ اسٹیل ملز کے ریفرنس شامل ہیں۔ ان تینوں ریفرنسوں میں 18 جی اور اس کی ذیلی دفعہ 9-A کا استعمال کیا گیا ہے۔ ان دفعات کے تحت اگر جرم ثابت ہوگیا تو 14 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے اور عوامی نمائندگی پر تاحیات پابندی بھی لگ سکتی ہے، جبکہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف منظور کیا جانے والا ریفرنس ان پر آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے الزام سے متعلق ہے اور ان کے خلاف سیکشن 14 سی لگائی گئی ہے، جس کے تحت جرم ثابت ہونے پر 14 سال قید مقرر ہے۔ عوامی نمائندے سزا کے بعد عمر بھر کے لیے نااہل ہوسکتے ہیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف 31 ون اے کی دفعہ بھی لگائی گئی ہے۔ ریفرنسز میں سابق وزیراعظم نواز شریف، حسن نواز، حسین نواز، مریم نواز اور اسحاق ڈار کو ملزمان قرار دیا گیا ہے، تاہم نیب نے عدالتی احکامات کے بغیر شریف خاندان کے افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے اور گرفتاریاں نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔