خواجہ اظہار پر حملہ،انصار الشریعہ کی 8ویں کارروائی ناکام

September 8, 2017 4:20 pmViews: 3

پہلی واردات میں اس گروہ کا نشانہ گلستان جوہر میں پولیس فائونڈیشن سیکورٹی کمپنی کا گارڈ بنا
کراچی (کرائم رپورٹر)شہر قائد میں ہونیوالی پولیس کلنگ میں ملوث دہشت گرد گروہ انصار الشریعہ اپنی آٹھویں کارروائی میں ناکام رہی جس نے دہشت گردوں کو بے نقاب کر ڈالا اور اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل گروپ کے کئی کارندے قانون نافذ کرنیوالے ادارے کے ہاتھ لگ گئے، تحقیقاتی اداروں کے مطابق2015میں بننے والی اس تنظیم نے اب تک کئی کارروائیاں کیں ،تفصیلات کے مطابق انصار الشریعہ سال2015کے آخر میں وجود میں آنے والے دہشت گرد گروہ انصار الشریعہ جس نے کراچی پولیس پر پے در پے حملے کئے،پہلی واردات میں اس گروہ کا نشانہ بنا گلستان جوہر میں پولیس فائونڈیشن سکیورٹی کمپنی کا گارڈ ،، جسکی وردی پر پولیس لکھا ہوا تھا جبکہ دوسری کارروائی کرنل ریٹائرڈ طاہر ضیاء ناگی پر حملہ تھا جو کہ شاہراہ فیصل پر اس وقت کیا گیا جب طاہر ضیا ناگی انسٹیٹیوٹ سے گھر جانے کیلئے گاڑی میں سوار ہورہے تھے ،تیسری کارروائی بہادر آباد میں کی گئی جس میں پولیس پر فائرنگ کے نتیجے میں2اہلکار شہید اور ایک شدید زخمی ہواجبکہ چوتھی کارروائی رمضان المبارک میں سائٹ ایریا میں کی گئی ،، دہشت گردوں کی فائرنگ سے افطار کے دسترخوان پر بیٹھے چار اہلکار شہید ہوئے ، واردات کے بعد باقاعدہ طور پر دہشتگردوں کی جانب سے پمفلٹ بھی پھینکا گیا جس میں حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی،انصار الشریعہ کے دہشتگردوں نے پانچویں کارروائی میں یاسین آباد کے قریب ڈی ایس پی ٹریفک عزیز آباد حنیف خان کو محافظ سمیت نشانہ بنایا اور کارروائی کی ذمہ داری بھی قبول کی ،چھٹی واردات نادرن بائی پاس پولیس چیک پوسٹ پر حملے کی صورت میں کی گئی جہاں ایک پولیس قومی رضاکار شہید اور دوسرا رضاکار زخمی ہوا جبکہ دہشتگرد گروہ انصار الشریعہ کی جانب سے ساتویں واردات گلستان جوہر میں ایف بی آر کے دفتر باہر کی گئی ، فائرنگ کے نتیجے میں پولیس وردی سے مشابہ وردی میں ملبوس دو محافظ جان کی بازی ہار گئے،آٹھیوں کارروائی ناکام ہونے کی صورت میں دہشت گر گروہ بے نقاب ہوا ، جس میں انصار الشریعہ کا اہم کمانڈر حسان مارا گیا اور جان لیوا حملے میں صوبائی اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن تو محفوظ رہے لیکن انکا ایک محافظ اور ایک بچہ جاں بحق ہوگیا۔