الزام تراشی مسائل کا حل نہیں زمینی حقائق کو سمجھا جائے، عسکری قیادت

September 9, 2017 2:00 pmViews: 4

افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے، اپنے دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے تمام اقدامات اٹھائیں گے
ملک کو دہشت گردی سے مکمل نجات دلانے کے لیے آپریشن جاری رہیں گے،آرمی چیف کا کور کمانڈر کانفرنس سے خطاب،کنٹرول لائن کی صورتحال پر غور
راولپنڈی (آن لائن) عسکری قیادت نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان نے بنیادی کردار ادا کیا، الزام تراشی مسائل کا حل نہیں، زمینی حقائق کو سمجھا جائے ملک کو دہشت گردی سے مکمل نجات دلانے کے لیے آپریشنز جاری رہیں گے، ہمارے نزدیک کوئی اچھا بُرا دہشت گرد نہیں سب کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری ہے۔ اپنے دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات اٹھائیں گے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت جی ایچ کیو راولپنڈی میں 204 ویں کور کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد ہوا، کانفرنس میں ملکی داخلی اور خارجی صورتحال کا جائزہ، آپریشن ردالفساد کے نتائج پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ کور کمانڈرز نے کنٹرول لائن کی صورتحال پر بھی غور کیا اور مشرقی اور مغربی سرحدوں پر آپریشنل تیاریوں پر مکمل اظہار اطمینان کیا گیا۔ کور کمانڈرز کو آپریشن ردالفساد کی اب تک پیشرفت سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ کانفرنس میں عسکری قیادت نے عزم کا اظہار کیا کہ ملک کو دہشت گردی سے مکمل نجات دلانے کے لیے آپریشنز جاری رہیں گے۔ ہمارے نزدیک کوئی اچھا بُرا دہشت گرد نہیں سب کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری ہے۔ خطے کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی میں پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کیا گیا اپنے دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات اٹھائیں گے۔ عسکری قیادت کا کہنا تھا کہ الزام تراشی مسائل کا حل نہیں، زمینی حقائق کو سمجھا جائے، افغانستان میں امن کے لیے پاکستان نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

آرمی چیف نے چار دہشت گردوں
کی سزا کی مدت کی توثیق کردی
راولپنڈی (آئی این پی) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 4 خطرناک دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی۔ جمعہ کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف نے چار خطرناک دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی ہے، چاروں دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں سے موت کی سزا سنائی گئی تھی، دہشت گردوں میں ریاض احمد، حفیظ الرحمن، محمد سلیم اور کفایت اللہ شامل ہیں جو دہشت گردی کی کارروائیوں، معصوم شہریوں کے قتل، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں اور سیکورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے، دہشت گردوں نے 16 افراد کو شہید اور 8 کو زخمی کیا، دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی عدالتوں کی جانب سے 23 دہشت گردوں کو مختلف مدت کی قید کی سزا بھی دی گئی۔