جامعہ کراچی میں دہشت گردی کا کوئی ونگ نہیں چل رہا وائس چانسلر

September 9, 2017 2:36 pmViews: 4

پکڑے جانے والے دہشت گردوں کا تعلق جامعہ کراچی سے ہے یا نہیں اس کے بارے میں ہمارے پاس کوئی معلومات نہیں ہیں
طلباء کا ڈیٹا فراہم کرنے کا فیصلہ نہیں ہوا،جامعہ کراچی کومے کی حالت میں ہے، پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل کی پریس بریفنگ
کراچی(اسٹاف رپورٹر)جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل نے کہاہے کہ طلبا ء تنظیموں کی بحالی ہونی چاہیے ، جامعہ میں دہشتگردی کا کوئی ونگ نہیں چل رہا۔ پکڑے جانے والے دہشت گردوں کا تعلق جامعہ سے ہے یا نہیں مجھے معلوم نہیں ہے کیونکہ سیکیورٹی ایجنسیز کی جانب سے کوئی معلومات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ جامعہ میں دہشتگرد پیدا ہورہے ہیں۔ ہم ہرصورت سیکیورٹی اداروں سے تعاون کرنے کے لیئے تیار ہیں۔جامعہ کراچی کے وائس چانسلرڈاکٹر اجمل خان نے جمعہ کوپریس کانفرنس میں میڈیا پرچلنے والی خبروں اورطلبا کا دہشت گردی میں ملوث ہونے کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی انتظامات ہمارا نہیں اداروں کا کام ہے تاہم ہم پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں اورذاتی طورپرمیرا خیال ہے کہ طلبا تنظیموں کی بحالی ہونی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ یہ کہنا غلط ہے کہ جامعہ میں دہشت گرد پیدا ہورہے ہیں، ایسا کہہ کرجامعہ کراچی کا نام خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، عدم برداشت صرف جامعہ کراچی کا مسئلہ نہیں جب کہ جامعہ میں دہشتگردی کا کوئی ونگ نہیں چل رہا، سیکورٹی ادارے ہمیں بتائیں کہ ہم کس طرح جامعہ کی سیکیورٹی بہتر بنائیں، سیکیورٹی اداروں کو ڈیٹا فراہم کرنے کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔وائس چانسلرنے کہا کہ جامعہ کو ہم سب کو مل کرتعلیم اورتحقیقات کا حب بنانا ہے، ریسرچ اورکھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے پیسے نہیں دیے جائیں گے تو دوسرے رجحانات پیدا ہوں گے، جامعہ کراچی سیکیورٹی کے حوالے سے دیواریں، سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور نئے سیکیورٹی گارڈ رکھنے پر کام کررہی ہے۔جامعہ کراچی کومے کی حالت میں ہے۔ ڈیڑھ بلین خسارے کو دیکھیں یا پھر سیکورٹی انتظامات کو، جامعہ کراچی سیکیورٹی کے حوالے سے کنکریٹ کی دیواریں۔مزید نئے کیمرے اورنئے سیکیورٹی گارڈ رکھنے پر کام کررہی ہے۔جامعہ کراچی کے مالی بحران کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ جامعہ کی مالی حالت انتہائی خراب ہے، پاکستان کی سب سے بڑی جامعہ اس طرح نہیں چل سکتی، جامعہ کا وی سی ہرمہینے کی15تاریخ کے بعد صرف یہ سوچتا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کوتنخواہ کیسے دے جوبہت بڑا المیہ ہے۔