حکومتی سرد مہری کراچی میں مقیم 3لاکھ روہنگیا مسلمان شناختی کارڈز سے محروم

September 11, 2017 2:15 pmViews: 1

روہنگیا مسلمان نصف صدی قبل برما میں ہونے والی قتل و غارت سے بچتے ہوئے پاکستان پہنچے تھے
پاکستانی حکومت نے40سال میں روہنگیا مسلمانوں سے متعلق کوئی پالیسی نہیں بنائی،سربراہ روہنگیا سالیڈ یریٹی
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی کے انتہائی پسماندہ علاقوں اور بستیوں میں رہنے والے تقریباً تین لاکھ روہنگیا باشندے بھی حکومتی سردمہری کا شکار ہیں جبکہ آج کل میانمار کے حالات پر وہاں مقیم اپنے لاکھوں رشتے داروں اور دوستوں کی وجہ سے گہری تشویش کا شکار ہیں۔ برطانوی خبر ایجنسی کی ایک تفصیلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ پاکستان میں بھی قریباً تین لاکھ روہنگیا مسلمان آباد ہیں، یہ وہ باشندے ہیں جن میں سے بہت سے قریب نصف صدی قبل سابق برما اور موجودہ میانمار میں ہونے والی خونریزی سے بچتے بچاتے پاکستان پہنچے تھے۔ ان حالات میں پاکستان میں مقیم لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کے لیے میانمار میں ایک بار پھر بدامنی اور قتل و غارت کی خبریں دوہری پریشانی کا باعث بن رہی ہیں، راکھین کی تازہ صورتحال نے نہ صرف پاکستان میں ان تین لاکھ روہنگیا باشندوں کی بزرگ نسل کے ماضی کے انتہائی تکلیف دہ تجربات کی یادیں تازہ کردی ہیں بلکہ یہی روہنگیا اپنے ان لاکھوں رشتے داروں اور دوست احباب کے بارے میں گہری تشویش اور خوف کا شکار بھی ہیں، جو اب تک راکھین ہی میں رہتے ہیں۔ پاکستان میں مقیم روہنگیا باشندوں کی اکثریت 60 اور 70 کی دہائیوں میں پاکستان پہنچی تھی۔ یہ باشندے کئی عشرے گزر جانے کے بعد بھی میانمار میں بالعموم اور راکھین میں بالخصوص اپنے اہل خانہ کے ساتھ رابطے قائم رکھے ہوئے تھے۔ پاکستان میں روہنگیا سالیڈیریٹی آرگنائزیشن کے سربراہ نور حسین کے مطابق اب تک پاکستانی حکومت نے 40 سال میں مقامی روہنگیا برادری سے متعلق کوئی پالیسی اپنائی ہی نہیں، جب تک ہماری برادری کے ارکان کو پاکستانی حکومت کے جاری کردہ شناختی کارڈ نہیں ملتے یہ برادری نہ تو ترقی کرسکتی ہے نہ ہی پاکستانی معاشرے میں اپنا کردار مزید بہتر بناسکتی ہے۔