طلباء کے سوشل میڈیا کے استعمال پر نظر رکھنا ہوگی، ڈاکٹر خالد مسعود

September 11, 2017 2:18 pmViews: 1

دہشت گرد تنظیمیںطلباء کو انتہا پسندی کی جانب راغب کررہی ہیں، ڈاکٹر عبدالحمید،جعفر احمد ودیگر کاورکشاپ سے خطاب
کراچی (پ ر) آج کل دہشت گرد کارروائیوں میں انجینئرز اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کیوں ملوث پائے جارہے ہیں، سوشل میڈیا پر بلاتصدیق کی جانے والی پوسٹس کی وجہ سے انتہا پسندی کو فروغ حاصل ہورہا ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں سوشل میڈیا کے ذریعے یونیورسٹی کے طالب علموں کو انتہا پسندی کی جانب راغب کررہی ہیں۔ اساتذہ کو تعلیمی اداروں میں طلبہ کے سوشل میڈیا کے استعمال پر نظر رکھنا ہوگی۔ ملک کو مذہبی ریاست بنانے کی کوشش میں ضیاالحق کے دور میں شیعہ سنی فسادات نے شدت اختیار کی۔ ان خیالات کا اظہار اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود، ماہر فزکس ڈاکٹر عبدالحمید نیر، ڈاکٹر جعفر احمد نے پاک انسٹی ٹیوٹ فارپیس اسٹڈیز کی جانب سے ’’سماجی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری میں اساتذہ کا کردار‘‘ پر منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر خالد مسعود کا کہنا تھا کہ حالیہ دہشت گردی کی جنگ وسائل پر قبضے کے لیے نہیں ہے۔ دہشت گردوں کا اصل مقصد اداروں اور سیکورٹی فورسز کو کمزور کرنا ہے۔ مذہب جب سیاست میں آجائے تو لسانیت اور فسادات کی جنگ شروع ہوجاتی ہے۔ ریاست کا کردار محدود ہوتا جارہا ہے۔ آج نوجوان نسل نہ صرف دین بلکہ دنیا کے بارے میں بھی زیادہ معلومات نہیں رکھتی ہے، اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ انتہا پسندی کی جانب راغب ہورہے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالحمید نیر کا کہنا تھا کہ ضیاالحق کے دور میں ملک کو مذہبی ریاست بنانے کی کوشش کی گئی جس کی وجہ سے شیعہ سنی فسادات ہوئے۔ امام بارگاہوں، مساجد میں لوگوں کا قتل عام ہوا، لسانی فسادات شدت اختیار کرگئے۔ سپاہ محمد، تحفظ نفاذ فقہ جعفریہ، کالعدم سپاہ صحابہ جیسی کئی جہادی تنظیمیں ملک میں سرگرم ہیں۔ ڈاکٹر جعفر احمد نے کہاکہ ہر بار یہ بات کی جاتی ہے کہ دہشت گردی اور فرقہ واریت میں بھارت اور اسرائیل ملوث ہیں ہم کب تک ان کی جانب اشارہ کرتے رہیں گے۔ ہمارے ملک میں جہادی جماعتیں موجود ہیں، ان کے انتہا پسندانہ لٹریچر لوگوں کو دہشت گردی کی جانب اکسا رہے ہیں۔ ورکشاپ سے رانا عامر، سید احمد بنوری، وسعت اللہ خان، مبشر زیدی نے بھی خطاب کیا۔