نیٹو کنٹینرز سے اسلحہ چوری کا تحقیقاتی ریکارڈ مل گیا

September 11, 2017 2:33 pmViews: 3

عوامی مرکز میںٹیکس محتسب اعلیٰ، کسٹمر اور ایف بی آر کا حساس ترین ریکارڈ موجود تھا
انکوائری رپورٹوں میں ہوشربا انکشافات کیے گئے تھے ،ریکارڈ مکمل خاکستر ہونے سے شواہد مٹ گئے
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں اہم وزارتوں و اداروں کے دفاتر میں آگ لگنے اور الیکٹرانک گورنمنٹ پراجیکٹ (ای جی پی) پر ہر سال اربوں کا بجٹ خرچ ہونے کے باوجود اہم سرکاری ریکارڈ جل کر خاکستر ہونے کی روایت برقرار ہے۔ ریڈزون میں واقع عوامی مرکز میں قائم وفاقی ٹیکس محتسب آفس میں آتشزدگی کی بدولت سابق ٹیکس محتسب شعیب سڈل کے دور کی نیٹو کنٹینروں سے اسلحہ چوری ہونے اور وہیکل ایمنسٹی اسکیم سمیت اہم انکوائری رپورٹیں اور شعبہ کسٹم کی طرف سے بھجوایا گیا اوریجنل ریکارڈ اب کبھی دستیاب نہیں ہوگا۔ نیا ٹیکس محتساب تعینات ہونے کے فوراً بعد دفتر میں آگ کا بھڑک اٹھنا بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اتوار کو ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ ریڈ زون میں واقع عوامی مرکز میںپھیلنے والی آگ دراصل ساتھ ہی واقع انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کی عمارت کے بیسمنٹ میں قائم وفاقی ٹیکس محتسب کے دفتر میں لگی اور دونوں عمارتوں کا تہہ خانہ ایک دوسرے سے جڑا ہونے کی وجہ سے آگ پھیل کر عوامی مرکز اور پی آئی ڈی سی آفس میں تک پہنچ گئی، ذرائع کے مطابق آگ لگنے سے تہہ خانے میں قائم وفاقی ٹیکس محتسب اور انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے دفاتر مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگئے جبکہ اوپر کی منزلوں میں قائم دفاتر کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ وفاقی ٹیکس محتسب آفس میں ایف بی آر کے شعبہ کسٹم کا انتہائی حساس ریکارڈ موجود تھا جو کہ مشرف دور میں کراچی سے طورخم کے درمیان نیٹو کنٹینروں سے بڑے پیمانے پر اسلحہ کی چوری سے متعلق تھا اس کے علاوہ 2010ء میں دی جانے والی وہیکل ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا ریکارڈ بھی وہاں پر موجود تھا۔ مذکورہ ریکارڈ سابق ٹیکس محتسب شعیب سڈل کی طرف سے ایف بی آر سے منگوایا گیا تھا جبکہ اس حوالے سے ڈاکٹر شعیب سڈل کی انکوائری رپورٹیں بھی موجود تھیں جن میں ہوشربا انکشافات کیے گئے تھے۔