آج صبح ،ملیر لنک روڈ پر ٹرالر اور سوزوکی میں تصادم2بچوں اور خاتون سمیت 6افراد جاں بحق

September 12, 2017 11:55 amViews: 5

سمندری بابا کے مزار کے قریب پیش آنے والے حادثے میں سوزکی پک اپ مکمل طورپر تباہ ہوگئی،پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتال پہنچا دیا گیا ، واقعے کے بعد لنک روڈ پر ٹریفک جام ہوگیا
کراچی( کرائم رپورٹر) آج صبح ملیر لنک روڈ پر سمندری بابا کے مزار کے قریب ٹرالر اور سوزوکی پک اپ میں خونی تصادم‘2بچوں اور خاتون سمیت6 افراد جاں بحق‘5 افراد شدید زخمی‘ لاشوں کو کارروائی کیلئے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق آج صبح ملیر لنک روڈ کے قریب سمندری بابا کے مزار والے روڈ پر تیز رفتار ٹرالر نمبر JU-9825 اور سوزوکی پک اپ نمبرS-8327 میں تصادم ہوگیا جس کے نتیجے میں سوزوکی پک اپ مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور مذکورہ حادثے کی اطلاع پولیس اور امدادی ٹیموں کو دی گئی۔ اطلاع ملتے ہی ایمبولینس موقع پر پہنچ گئی اور سوزوکی پک اپ میں موجود پھنسے افراد کو نکال کر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں پر2بچوں ایک خاتون سمیت6 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جن کی لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کیلئے جناح اسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ زخمی ہونیوالے5 افراد کو طبی امداد دی جارہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ واقعے میں جاں بحق ہونیوالے افراد میں35 سالہ عبدالمالک‘32 سالہ ماجدہ‘12سالہ نعمان‘5 سالہ معیز‘32 سالہ نامعلوم اور28 سالہ مرتضیٰ شامل ہیں جو کہ گلشن حدیدکے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔ مذکورہ واقعے کے بعد لنک روڈ پر ٹریفک شدید جام ہوگیا اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی اندرون ملک سے آنے اور جانے والی گاڑیاں گھنٹوں ٹریفک میں پھنسی رہیں لیکن ٹریفک کو بحال کرنے اور گاڑیوں کو ہٹانے کیلئے پولیس کی جانب سے بروقت اقدامات نہیں کئے گئے۔ گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے افراد کے احتجاج کے بعد پولیس کی جانب سے ٹریفک بحال کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی طو رپر معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا ہے اور اس حادثے میں جاں بحق ہونیوالے افراد گلشن حدیدکے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پک اپ سوزوکی کاٹھور سے گلشن حدید کی جانب جارہی تھی جبکہ ٹرالر گلشن حدید سے کاٹھور کی طرف جارہا تھا اور مذکورہ حادثہ ٹرلار کے ڈرائیور کی غفلت کے باعث پیش آیا ۔ اس واقعے میں سوزوکی پک اپ کا ڈرائیور بھی ہلاک ہوگیا ہے اور تمام افراد ہفتہ بازاروں میں اسٹال لگاتے تھے۔