کراچی میں جاری منصوبے مکمل کئے بغیر نئی منصوبہ بندی شروع ٗ عوامی مشکلات بڑھنے کا خدشہ

September 12, 2017 2:25 pmViews: 9

شارع فیصل ایف ٹی سی بلڈنگ سے میٹرو پول ہوٹل تک تاحال کار پینٹنگ نہیں کی جاسکی جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہورہی ہے
انتظامیہ یونیورسٹی روڈ بھی ابھی تک مکمل نہیں کرسکی ٗ حکومتی شخصیات نے وزیراعلیٰ سندھ سے نئے منصوبوں کی منظوری حاصل کرلی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) حکومت سندھ نے شہر قائد میں گزشتہ سال سے جاری میگا پروجیکٹس یونیورٹی روڈ، شارع فیصل ایف ٹی سی سے میٹروپول ہوٹل تک کارپیٹنگ اور برساتی نالہ، سب میرین انڈر پاس اور این 5 منصوبے کو مکمل کیے بغیر نئے منصوبے شروع کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں جس کے باعث شہریوں کو شہر بھر میں سفر کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل نہ ہوسکے، نئے منصوبے شروع کرنے کی تیاریاں شروع کردی گئیں، ذرائع کے مطابق شارع فیصل ایف ٹی سی بلڈنگ سے میٹروپول ہوٹل تک تاحال کارپیٹنگ نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر جبکہ سڑک کے دونوں اطراف برساتی نالے کا کام بھی تاحال مکمل نہیں ہوا، شارع فیصل پر برساتی نالے کے تعمیری کام کا ٹھیکہ دو الگ الگ کمپنیوں نے سرکاری لاگت سے 20 فیصد کم پر لیا تھا تاہم کچھ عرصے بعد میگا پروجیکٹ انتظامیہ سے ٹھیکہ داروں نے سازباز کرکے نالے کے تعمیری کام میں معمولی اضافہ کرکے نالے کی لاگت میں 20 فیصد اضافہ کرالیا، جس کے باعث سرکاری خزانے کو شارع فیصل کے برساتی نالے کی تعمیر پر اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے جبکہ پروجیکٹ انتظامیہ کی عدم دلچسپی کے باعث نالے کا تعمیری کام بھی سست روی کا شکار ہے جبکہ این فائیو منصوبہ بھی تاحال مکمل نہیں کیا جاسکا۔ حکومت سندھ کے میگاپروجیکٹ کی انتظامیہ نے شہریوں اور وزیراعلیٰ سندھ کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے کئی ماہ قبل بغیر کام مکمل کیے یونیورسٹی روڈ کا افتتاح وزیراعلیٰ سندھ سے کرا تو دیا تاہم افتتاح کے کئی ماہ گزر جانے کے بعد بھی انتظامیہ یونیورسٹی روڈ کی تعمیر مکمل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ نئے منصوبے شروع کرنے سے شہر بھر میں بدترین ٹریفک جام ہوسکتا ہے کیونکہ شہر کی مصروف ترین سڑکوں نواب صدیق علی خان روڈ پر گرین لائن بس منصوبے کا کام جاری ہے، یونیورسٹی روڈ کا کام نامکمل ہے، سب میرین انڈر پاس کی وجہ سے گذری روڈ پر بھی ٹریفک کے سنگین مسائل پیدا ہوچکے ہیں، اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ محکمہ بلدیات، میگا پروجیکٹ انتظامیہ اور بعض حکومتی شخصیات نے ملی بھگت کرکے وزیراعلیٰ سندھ سے پرانے منصوبے مکمل کیے بغیر نئے منصوبے شروع کرنے کی منظوری حاصل کی ہے، تاکہ مالی سال 2017-18ء سے میگا پروجیکٹ کے لیے مختص رقم کو استعمال کرلیا جائے۔