متنازع آرڈیننس پریس کونسل بھیجنے والے افسروں کیخلاف کارروائی

September 12, 2017 2:47 pmViews: 3

آزادی صحافت ن لیگ کی پالیسی ہے، صحافتی تنظیموں کے تحفظات دورکریں گے، وزیر اعظم
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اے پی این ایس، سی پی این ای اور پی ایف یو جے کی کوششوں سے متنازع پاکستان پرنٹ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2017ء کا ڈراپ سین ہوگیا، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے اس متنازع آرڈیننس کو پریس کونسل بھیجنے والے افسران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا اور رپورٹ طلب کرلی ہے اور متعلقہ افسران ڈائریکٹر جنرل انٹرنل پبلسٹی ونگ ناصر جمال، ڈائریکٹر طاہر حسن کو ان کے عہدوں سے ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا گیا جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر سعداللہ مہر کو فوری طور پر معطل کردیا گیا، جبکہ ڈائریکٹر جنرل ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ شفقت جلیل کو انکوائری افسر مقرر کردیا گیا جو اس واقعہ کے ذمہ داروں کا تعین کرکے تین دن کے اندر رپورٹ پیش کریں گے۔ علاوہ ازیں اے پی این ایس کے قاضی اسد عابد، سی پی این ای کے عامر محمود، انور ساجدی اور پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ، ناصر زیدی، خورشید تنویر، سول سوسائٹی کے نمائندوں ماریہ اقبال ترانہ، شاہ جہاں خان نے پریس کونسل آف پاکستان کے اجلاس کے بعد نیشنل پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ آزادی صحافت پر کسی قسم کی قدغن کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور اگر کوئی ایسی سازش کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی جائے گی۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اے پی این ایس کے قاضی اسد عابد کا مزید کہنا تھا کہ پریس کونسل آف پاکستان کے آج ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں متنازع پاکستان پرنٹ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2017ء کا معاملہ شامل تھا۔ اجلاس میں تینوں بڑی صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس متنازع اور کالے آرڈیننس کو مشترکہ طور مسترد کردیا۔ مجیب الرحمن شامی نے وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ متنازع آرڈیننس کا معاملہ اٹھایا جس پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے واضح طور پر اس آرڈیننس سے لاعلمی کا اظہار کیا اورکہا کہ یہ ان کی حکومت کی پالیسی نہیں ہے اور مسلم لیگ ن کی حکومت ایسی کسی بھی قانون سازی کا سوچ بھی نہیں سکتی، جس سے آزادی صحافت پر کوئی زد پڑتی ہو۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ آزاد صحافت اور میڈیا ہماری پالیسی ہے اور صحافتی تنظیموں کے تمام تحفظات دور کیے جائیں گے۔ قاضی اسد عابد نے مزید بتایا کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر افضل بٹ نے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب سے بھی ملاقات کی اور ان سے متنازع پاکستان پرنٹ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2017ء کا معاملہ اٹھایا۔ اس موقع پر وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے حیرت انگیز انکشاف کیا کہ وہ اس متنازع آرڈیننس کے سارے معاملے سے لاعلم ہیں انہوں نے نہ تو اس آرڈیننس کا مسودہ دیکھا ہے اور نہ ہی اس کی مجھ سے منظوری لی گئی ہے۔ وزیر اطلاعات و نشریات نے بتایا کہ میں نے اس سلسلے میں سیکرٹری اطلاعات سے بھی بات کی ہے وہ بھی اس سارے معاملے سے لاعلم ہیں۔