مردم شماری کا ریکارڈ نہ دینے پر عدالت جائیں گے ٗ سیاسی جماعتوں کا اعلان

September 12, 2017 2:57 pmViews: 4

وفاقی حکومت صوبوں میں احساس محرومی پیدا کررہی ہے ٗ حالیہ مردم شماری میں سندھ کے تمام بلاکس کا ریکارڈ
کراچی کی آبادی ایک کروڑ 60لاکھ بتانا باعث تشویش ہے ٗ سیمینار سے ناصر حسین شانی ٗ فاروق ستار ٗ حافظ نعیم الرحمن ودیگر کا خطاب
کراچی(اسٹاف رپورٹر)تمام سیاسی وسماجی جماعتوں نے حالیہ مردم شماری کے نتائج کو مستردعام کر دیا اور وفاق سے مردم شماری کے تمام تر ریکارڈ کو منظر پر لانے کا مطالبہ کر دیا، حالیہ مردم شماری میں سندھ کے ظاہر کیے گئے اعداد و شمار پر شدید تحفظات ہیں، اب معلومات تک رسائی کا قانون بن چکا ہے جس کی وجہ سے ریکارڈ کا حصول اب عوام کا حق بن چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے مقامی ہوٹل میں نیشنل فورم فار انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ (این ایف ای ایچ) کے تحت منعقدہ سیمینار میں کیا جس کا مقصد مردم شماری 2017کے نتائج پر مشاورت اور اسے حقیقت پسندانہ بنانے کیلئے حل تلاش کرنا تھا۔ تقریب میں پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فاروق ستار، پاکستان تحریک انصاف کے خرم شیرزمان، جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن، پاک سر زمین پارٹی کے وسیم آفتاب، پاکستان پیپلز پارٹی کے پیر مظہر الحق، ماہر معاشیات قیصر بنگالی، نیشنل فورم کے صدر محمد نعیم قریشی، ای ایم سی کے ندیم عارف، ثاقب اعجاز، کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر شمیم فرپو، ڈاکٹر قیصر وحید، ندیم اشرف، کیپٹن فہیم الزمان اور مظہر عباس نے شرکت کی۔ صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پاکستان میں تمام صوبوں کو درپیش محرومیوں کو دور کرنے سے ہی ملک مضبوط ہوگا۔ وفاقی حکومت اپنے رویوں سے تمام صوبوں میں احساس محرومی پیدا کر رہی ہے۔ حالیہ مردم شماری سے قبل ہی سندھ حکومت نے وفاق کے سامنے اپنے خدشات رکھے لیکن انہیں تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا۔ صرف سندھ ہی نہیں کراچی بھی سندھ کی جاگیر ہے۔ حالیہ مردم شماری میں سندھ کے ظاہر کیے گئے اعداد و شمار پر شدید تحفظات ہیں بد قسمتی سے مردم شماری بورڈ میں کسی بھی صوبے کی نمائندگی موجود نہیں ، حالیہ مردم شماری میں سندھ کے تمام بلاکس کے ریکارڈ کو کھولا جائے۔وفاق کی جانب سے مردم شماری کے ریکارڈ کی عدم فراہمی پر کورٹ تک جائیں گے،متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ ایک ہی صوبہ ہے اس وجہ سے دیہاتی و شہری آبادی کے ریکارڈ میں درپیش خدشات میں تفریق کرنا ایک بڑا المیہ ہے،1998کے الیکشن میں کراچی کے کل 7بلاکس کی آبادی صرف 98لاکھ تھی، اس وقت بھی 30لاکھ آبادی کم ظاہر کی گئی تھی، اسی طرح 2017میں کراچی کے 14ہزار بلاکس تھے، اس طرح اس کی آبادی بھی 2کروڑ ہونی چاہیے لیکن حالیہ مردم شماری میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ 60لاکھ بتانا باعث تشویش ہے۔جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی میں 2020کے ماسٹر پلان کے اعداد و شمار کے مطابق کراچی کی آبادی 2کروڑ45لاکھ سے کم نہیں ہونی چاہیے لیکن بد قسمتی سے کراچی کی آبادی ہر الیکشن میں غلط ثابت ہوجاتی ہے،ملکی وسائل کا مناسب استعمال کرنا چاہیے۔