پاک فوج یمن جنگ میں حصہ نہیں لے گی ٗ وزیر دفاع ٗ چیئرمین سینیٹ کا اظہار اطمینان

February 20, 2018 4:52 pm0 commentsViews: 2

دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستانی افواج وسیع تجربہ حاصل کرچکی ہے اسی لئے وہ سعودی فوج کو تربیت فراہم کریں گی ٗ خرم دستگیر
وزیر اعظم نے مزید ایک ہزار فوجی بھیجنے کی منظوری دیدی ٗ سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی مجموعی تعداد 2600ہوجائے گی ٗ سینیٹ میں وضاحت
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیر دفاع خرم دستگیر نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب میں موجود پاکستانی فوج یمن کی جنگ میں شریک نہیں ہوگی پاکستانی فوج سعودی عرب میں صرف تربیت اور مشاورت کے عمل میں شریک ہے وزیر اعظم نے مزید ایک ہزار فوجی اہلکار سعودی عرب بھیجنے کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد وہاں موجود پاکستانی فوجیوں کی کل تعداد 2600 ہوجائیگی جبکہ سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے خرم دستگیر کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو باتیں انہوں نے بتائیں ہیں یہ ایوان پہلے سے جانتا ہے وہ یہ بتائیں کہ مزید بھیجے جانے والے فوجیوں کو سعودی عرب میں کہاں تعینات کیا جائیگا اور وہ وہاں کریں گے کیا؟۔ پیرکو سینیٹ اجلاس میں سعودی عرب میں مزید فوج بھیجے جانے کے معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج سعودی عرب میں صرف تربیت اور مشاورت کے عمل میں شریک ہے۔ وزیر دفاع خرم دستگیر نے اعتراف کیا کہ وزارت دفاع کی جانب سے بیان سامنے آنا چاہئے تھا اور اس واقعہ میں ا ن کے سیکھنے کیلئے سبق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چونکہ پاکستانی افواج کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران پہاڑوں پر جنگ کا تجربہ ہے اور وہ اس میں مہارت حاصل کرچکی ہے اس لئے وہ سعودی افواج کو اسی حوالے سے تربیت دیں گی۔ انہوں نے وضاحت دی کہ 1982 کے پروٹول میں یہ بات واضح ہے اسی لئے پاکستانی فوجی صرف سعودی فوج کو مہارت اور قابلیت سکھانے جائیں گے۔