دھڑے بندی ٗ ایم کیو ایم کے ارکان سندھ اسمبلی کا اجلاس میں شرکت سے گریز

February 24, 2018 11:15 am0 commentsViews: 6

صرف چار ارکان اجلاس میں شریک ہوئے ٗ میں بھی شاید آخری بار آیا ہوں ٗ خواجہ اظہار الحسن کی بات چیت
پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہونیوالے ایم کیو ایم ارکان کے استعفے منظور کئے جائیں ٗ اجلاس میں اجنبیوں کی شرکت قابل مذمت ہے ٗ محفوظ یار خان
کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) پاکستان میں تقسیم اور دھڑے بندی کی وجہ سے ایم کیو ایم کے ارکان سندھ اسمبلی مایوس ہو گئے ہیں اور جمعہ کو صرف چار ارکان سند ھ اسمبلی نے اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی ۔ ان میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن ، سید سردار احمد ، محفوظ یار خان اور رعنا انصار شامل ہیں ۔ خواجہ اظہار الحسن نے اسمبلی کے اجلاس سے قبل میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر ایم کیو ایم میں تقسیم برقرار رہی تو وہ بھی آئندہ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں نہ آنے کا سوچیں گے ۔ سینیٹ کے انتخابات میں ووٹ ڈالنا بھی مشکل ہو جائے گا ۔ واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے سندھ اسمبلی میں 50 ارکان ہیں ، جن میں سے 7 ارکان پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں اور وہ ساتوں ارکان دو سال بعد اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے ۔ ایم کیو ایم کو چھوڑنے والی ایک اور رکن سندھ اسمبلی ارم عظیم فاروق جمعہ کو سندھ اسمبلی نہیں پہنچیں ۔ خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ ہمارے پاس باقی 37 ارکان ہیں لیکن ان 37 میں سے صرف 4 ارکان اسمبلی کے اجلاس میں پہنچے ۔ خواجہ اظہارالحسن نے کہاکہ میں بھی شاید آخری دفعہ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں آیا ہوں تاکہ میر ہزار خان بجارانی کے لیے فاتحہ خوانی کر سکوں ۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس کے بعد ایم کیو ایم کے رکن محفوظ یار خان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہونے والے ایم کیو ایم کے ارکان کے استعفیٰ منظور کیے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو خط بھی لکھ چکے ہیں ۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اجنبیوں کے بیٹھنے کی مذمت کرتے ہیں ۔