سندھ کی بیورو کریسی کے گرد گھیرا تنگ ٗ تحقیقاتی اداروں کیخلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ

February 24, 2018 11:20 am0 commentsViews: 10

پنجاب کی طرح دیگر چاروں صوبوں میں کرپشن ٗ اقر باپروری اور اختیارات سے تجاوز کرنے کے الزامات میں کارروائی کی جائے گی
مطلوب افسران کی فہرست تیار ٗ 22گریڈ افسران نے نیب اور دیگر تحقیقاتی اداروں کیخلاف دفاعی حکمت عملی تیار کرلی ٗ گرفتار یوں سے بچنے کیلئے سندھ بھر میں مظاہرے کئے جائیں گے ٗ صورتحا ل سے شہریوں کے متاثر ہونے کا خدشہ
بیورو کریٹس کی گرفتار ی کیلئے جو طریقہ کار اختیار کیا جارہا ہے وہ مناسب نہیں ہے ٗ ڈی ایم جی ٗ پی ایس سی افسران اور تحقیقات کا سامنا کرنیوالے افسران کے اجلاس میں اظہار تشویش ٗ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کو بھی احتجاجی یادداشت پیش کی جائے گی
کراچی (نیوز ڈیسک/خبر ایجنسیاں) پنجاب کے بعد سندھ سمیت دیگر تین صوبوں کی بیورو کریسی کے گرد شکنجہ تنگ کر دیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں پنجاب کے بعد سندھ کی بیورو کریسی پر ہاتھ ڈالنے کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے جبکہ سندھ کی بیورو کریسی نے نیب اور ایف آئی اے کے خلاف دفاعی حکمت عملی کے تحت احتجاج اور مظاہروں کی تیاری شروع کر دی ہے۔ دوسری جانب سیکرٹری سروسز سندھ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری ہونے پر بھی بیورو کریسی میں خوف و ہراس بڑھ گیا ہے۔ بیورو کریسی اور تحقیقاتی اداروں کی جنگ میں شہریوں کے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق نیب سمیت مختلف تحقیقاتی اداروں نے کرپشن، اقربا پروری اور اختیارات سے تجاوز کرنے کے الزامات میں مطلوب افسران کی فہرستیں تیار کرلی ہیں جس کے باعث چاروں صوبوں کی بیورو کریسی خوف و ہراس کا شکار ہوگئی ہے۔ سندھ میں بیورو کریسی نے نیب اور ایف آئی اے کے خلاف احتجاج کی تیاری شروع کردی، ڈی ایم جی افسران کے خلاف براہ راست اور اچانک کارروائی کے خلاف وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کو چارٹر آف ڈیمانڈ پر مبنی احتجاجی یادداشت پیش کرنے کے لیے مشاورت اور نکات کی تیاری شروع کر دی گئی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے نیب کی جانب سے آئندہ چند ہفتوں میں سندھ سمیت چاروں صوبوں میں نچلے گریڈ کے اہلکاروں سے لے کر گریڈ 22 یا مساوی عہدے کے افسران کے خلاف کارروائی کی تیاری شروع کردی ہے جن میں 17 کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے۔ ذرائع کے مطابق جمعہ کو ڈی ایم جی اور پی ایس سی افسران اور نیب کی تحقیقات کا سامنا کرنے والے موجودہ اور سابق افسران کا ایک غیر رسمی مشاورتی اجلاس ہوا جس میں سندھ سے تعلق رکھنے والے سینئر بیورو کریٹس نے سند میں نیب اور ایف آئی اے کی جانب سے افسران کو ہراساں کرنے کے تدارک کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔ بیشتر ڈی ایم جی اور سینئر افسران کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ نیب کی جانب سے بیورو کریٹس کی گرفتاری کے لیے اختیار کیا گیا طریقہ کار مناسب نہیں، نیب سمیت اگر کسی بھی تحقیقاتی ادارے کو گرفتاری مطلوب ہے تو مجوزہ طریقہ کار کو اختیار کیا جائے اور چیف سیکرٹری کو خط لکھ کر متعلقہ افسر کے خلاف چارج شیٹ سے آگاہ کیا جائے۔ سندھ میں سیکرٹری سطح کے 27 افسران اس سے قبل بھی وزیراعلیٰ سندھ کے پاس جاکر یہ شکایت کر چکے ہیں کہ وہ ایسے حالات میں اپنے امور انجام نہیں دے سکتے۔ ایف آئی اے اور نیب انہیں اور ان کے ہم منصب سابقہ افسران کے خلاف تحقیقات کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا ہوا ہے وہ کسی بھی طرح قانونی نہیں ہے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے عدالتی حکم کی تعمیل نہ کرنے پر سیکرٹری سروسز سندھ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ عدالتی احکامات نہ ماننے والے سول سرونٹس سے کوئی ہمدردی نہیں، عدالتی حکم پر کیوں عمل نہیں کیا گیا، 15 روز کے لیے جیل بھیجا تو سبق سیکھ جائیں گے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے جمعہ کو سندھ مینجمنٹ پروفیشنل سروس رولز کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سیکرٹری سروسز سے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کی آپ نے تعمیل نہیں کی۔