سی ٹی ڈی کا چھاپہ پاک کالونی سے کالعدم تنظیم کے4دہشت گرد گرفتار

July 21, 2018 1:08 pm0 commentsViews: 16

دہشت گرد عرفان نے افغانستان سے ٹریننگ لی، حرکت المجاہدین اور کالعدم سپاہ صحابہ میں شامل رہا، مطلوب دہشت گرد کا ملک ممتاز سے قریبی تعلق ہے
ملزمان ملک ممتاز کے لیے پیغام رسانی کا کام کرتے تھے،تفتیش میں اہم انکشافات، دہشت گردوں سے اسلحہ اور جہادی لٹریچر بھی برآمد
کراچی (کرائم رپورٹر) کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ نے پاک کالونی کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے 4 مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے اسلحہ اور جہادی لٹریچر برآمد کرلیا، دہشت گردوں کے نام قاری عرفان اللہ عرف عثمان، محمد رضوان، سالک اور ذوہیر بتائے جاتے ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ گرفتار ہونے والے دہشت گرد قاری عرفان اللہ عرف عثمان عرف بلال نے بتایا کہ 1998ء میں حرکت المجاہدین کی طرف سے افغانستان گیا تھا جبکہ سال 2001ء میں سپاہ صحابہ طارق روڈ یونٹ میں شامل ہوا، سال 2005-06 میں میرا تعلق سرمد صدیقی اور ندیم برگر عرف ندیم مُلّا کے ذریعے ملک ممتاز القاعدہ سے ہوا، سال 2007 یا 2008ء میں اسے سپاہ صحابہ طارق روڈ یونٹ کا انچارج بنایا گیا۔ سال 2009ء میں ملک ممتاز کی بہن سے شادی ہوئی۔ دہشت گرد رضوان بی ایچ وائی اسپتال دہلی کالونی میں اعزازی ڈائریکٹر ہے جس کی رہائش نرسری کراچی کے پاس ہے ملک ممتاز اعوان جو کہ پہلے لشکر جھنگوی اور بعد میں القاعدہ میں شامل ہوگیا تھا، ملک ممتاز قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب ہونے کی وجہ سے افغانستان میں روپوش ہے اس کے لیے پیغام رسانی کا کام اور مالی مدد کرتا ہے، گرفتار ہونے والے دہشت گرد سالک انجینئر ہے اس کی دوستی عبدالباسط القاعدہ سے تھی اور عبدالباسط کی مفروری کے دوران اس کو مالی مدد اور کھانے پینے اور رہائش کاانتظام اسی کے ذمہ تھا جبکہ اس کی دوستی سانحہ صفورا کے سزا یافتہ ملزم اظہر عشرت عرف خوبصورت سے بھی تھی۔ گرفتار ہونے والے دہشت گرد ذوہیر مدرسہ بن مسعود منگھوپیر سے فارغ التحصیل ہے اور ملک ممتاز بھی اس کے ساتھ ہی مدرسے میں پڑھتا تھا اوراس کے محلے میں رہتا تھا جس کے باعث اس کے قریبی تعلقات ملک ممتاز کے ساتھ تھے اور دہشت گرد ملک ممتاز کے افغانستان سے بھیجے گئے خطوط ذوہیر وصول کرتا تھا اور آگے جسے دینے ہوتے تھے اسے پہنچاتا تھا، تاہم چاروں ملزموں سے پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔