اسکولوں کو 20 ستمبر 2017 کا فیس اسٹرکچر بحال کرنے کا حکم

December 4, 2018 12:26 pm0 commentsViews: 4

پرائیوٹ اسکولز کی لابی اتنی مضبوط ہے کہ کسی کو گھاس نہیں ڈالتی، ان کا بننا حکومت کی نالائقی ہے، عدالت نے ایک ساتھ3 ماہ کی فیس لینے سے روک دیا
سوال ایران کا جواب یونان کا دے رہے ہیں، عدالت کا نجی اسکول کے وکیل پر برہمی کا اظہار، زائد فیسوں کی وصولی سے متعلق کیس میں ڈائریکٹر اسکولز منسوب صدیقی پیش
کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے نجی اسکولوں کی جانب سے 5 فیصد سے زائد فیسوں کی وصولی سے متعلق کیس میں 20 ستمبر2017 سے قبل کا فیس اسٹرکچر بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے نجی اسکولوں کو ایک ساتھ3ماہ کی فیس لینے سے بھی روک دیا۔ سندھ ہائی کورٹ میں اسکول فیسوں میں 5فیصد سے زائد اضافے کیخلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت ڈائریکٹر اسکولز منسوب صدیقی و دیگر عدالت عالیہ میں پیش ہوئے۔ اس موقع پر عدالت نے نجی اسکول مالکان کے وکیل سے استفسار کیا کہ فیس چالان کون پیش کرتا ہے۔ آخری فیس اسٹرکچر پر بل کہاں ہے جس پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 2016 ء میں فیس اسٹرکچر کا اپرول لیا تھا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ترتیب تو2005 سے بگڑی ہوئی ہے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پرائیویٹ اسکولز کی لابی اتنی مضبوط ہے کہ کسی کو گھاس نہیں ڈالتی۔ نجی اسکو ل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سٹی اسکول کی تمام برانچز میں 56 فیصد اضافہ کیا گیا۔ عدالت نے نجی اسکول کے وکیل پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوال ایران کا اور جواب یونان کا دے رہے ہیں۔ اگر ہم چاہتے تو توہین عدالت میں فرد جرم عائد کردیتے ہم آپ کو موقع دینا چاہتے ہیں معاملہ حل کریں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ پرائیویٹ اسکول بننا حکومت کی نالائقی ہے۔ نجی اسکول اس کا ناجائز فائدہ اٹھارہے ہیں۔ 3ماہ کی مہلت دی گئی مگر معاملے کو مزید بڑھارہے ہیں۔