بھارت کی جانب سے ٗ پاکستان کی سمندری حدود میں جارحیت کا خطرہ

August 17, 2019 11:00 am0 commentsViews: 175

پاکستانی ماہی گیروں کو پاک بھارت متازعہ سمندری علاقوں سے دور رہنے اور اپنی لانچوں پر بڑے قومی پرچم لہرانے کی ہدایت کی گئی ہے
ماہی گیروں کو چیکنگ کے بعد شکار پر جانے کی اجازت دی جارہی ہے ، بھارت پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے آبی حدود میں کوئی کارروائی کرسکتا ہے ، ماہی گیروں کو کہا گیا ہے کہ وہ کوئی غیر معمولی بات محسوس کریں تو بحری سیکورٹی اداروں کو آگاہ کریں ٗ حکام
پاکستان کی سمندری حدود میںماہی گیروں کے ساتھ ساتھ سیکورٹی ادارے بھی پیٹرولنگ پر موجود ہونگے ٗ بھارت کشیدگی کے دنوں میں ایل او سی کے بعد سمندری حدود میں بھی چھیڑ چھاڑ کررہا ہے ٗ میری ٹائم سیکورٹی
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی سمندری حدود میں بھارت کی جانب سے جارحیت کے خطرات کے بعد پاکستان کی سیکورٹی فورسز الرٹ ہوگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاک بھارت کشیدگی بڑھنے پر سمندری حدود میں کسی بھی قسم کے جارحانہ بھارتی اقدامات کے خدشات پر پاک بحریہ و سیکورٹی اداروں کے ساتھ ساتھ ماہی گیروں کو بھی محتاط رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ سیکورٹی کے پیش نظر سمندر میں جانے والے ماہی گیروں کو چیکنگ کے بعد روانہ کیا جارہا ہے جبکہ دوران شکار ان کی چیکنگ بھی جاری ہے۔ ماہی گیروں کو پاک بھارت متنازع سمندری علاقوں سے دور رہنے اور اپنی لانچوں پر بڑے قومی پرچم لہرانے کی ہدایات کی گئی ہیں۔ میری ٹائم سیکورٹی ذرائع کے مطابق بھارت آبی راستے سے پاکستان کے خلاف کوئی جارحیت اور نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتا ہے، اس لیے ہم نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ماضی میں پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے دنوں میں بھارت ایل او سی کے بعد سمندری حدود میں چھیڑ چھاڑ کرتا رہا ہے۔ مودی سرکار کے گھنائونے اقدامات کی روشنی میں شکار کے لیے سمندری حدود میں جانے والے ہزاروں ماہی گیروں کو سرکریک کے متنازع علاقے اور پاک بھارت سمندری حدود سے دور رہ کر شکار کرنے اور کسی بھی قسم کی غیر معمولی بات سے بحری سیکورٹی کے اداروں کو مطلع کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ماہی گیروں کو لانچوں پر بڑے قومی پرچم لہرانے اور چیکنگ کرنے والوں سے تعاون کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔ ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ ہر ماہی گیر جنگ کے دوران یا بُرے حالات میں پاک بحریہ کے ساتھ کندھا ملائے کھڑا ہوگا۔ ہمیں بار بار سرکریک سے دور رہ کر شکار کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ سمندر میں پاکستانی سیکورٹی ادارے بھی ان کے ساتھ ساتھ پیٹرولنگ پر موجود ہیں۔ پاکستان فشرفوک فورم کے ترجمان کمال شاہ نے تصدیق کی کہ موجودہ حالات میں ماہی گیروں کو بھی محتاط رہنے کی ہدایات کی گئی ہیں اور پاک بھارت متنازع سرحدی علاقوں اور دیگر سمندری بارڈر ایریا سے دور رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ ماہی گیر تنظیمیں ملکی سیکورٹی اداروں سے رابطے میں ہیں، سمندر میں جانے والے ماہی گیروں کو چیک کرکے بھیجا جارہا ہے اور سمندر میں بھی ان کی چیکنگ کی جارہی ہے۔ ماہی گیر پُرجوش ہیں کہ بھارت نے اگر سمندری حدود سے کوئی چھیڑ چھاڑ کی تو اسے ماضی کی طرح ہی جواب دیا جائے گا۔ ماہی گیروں کو سمندر میں مشکوک اشیا، مشکوک لانچوں یا مشکوک افراد کے حوالے سے سیکورٹی اداروں کو فوری طور پر آگاہ کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔