جھگیوں میں خوفناک آتشزدگی ٗ 300خاندانوں کو بحفاظت نکال لیا گیا

January 22, 2020 11:11 am0 commentsViews: 1114

تین ہٹی پل کے نیچے بنی جھگیوں میں رات گئے اچانک آگ بھڑک اٹھی وہاں موجود لوگوں نے بھاگ کر جان بچائی
آگ لگنے سے 300جھگیاں جل کر راکھ ہوگئیں ٗ پولیس ٗ امدادی کارکنوں اور فائر بریگیڈ کے عملے نے آگ میں پھنسے افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا ٗ کم از کم 500افراد رہائش پذیر تھے
فائر بریگیڈ کی 10گاڑیوں نے کئی گھنٹے بعد آگ پر قابو پالیا ٗ متاثرہ افراد کیلئے سرکاری اسکول میں رات گزار نے کا انتظام کیا گیا ٗ دو بکریاں اور چند مرغیاں زندہ جل گئیں
کراچی (کرائم رپورٹر) لیاقت آباد میں تین ہٹی پُل کے نیچے بنی جھگیوں میں رات گئے اچانک آگ بھڑک اٹھی جس سے بھاری نقصان ہوا ہے، لوگوں نے بھاگ کر جان بچائی۔ پولیس، امدادی کارکنوں اور فائر بریگیڈ کے عملے نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ میں پھنسے 300 خاندانوں کو بحفاظت نکال لیا، آگ لگنے سے اگرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن دو بکروں اور متعدد مرغیاں زندہ جل گئیں، آج صبح صوبائی وزیر سعید غنی اپنی ٹیم کے ہمراہ تین ہٹی پہنچ گئے ان کی جانب سے متاثرہ افراد کو خیمے اور کھانا فراہم کیا جارہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق لیاقت آباد میں تین ہٹی پُل کے نیچے بنی جھونپڑیوں میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری بستی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، تیز ہوائوں کے باعث آگ کے شعلے تیزی سے بلند ہو رہے تھے آگ میں پھنسے بہت سے لوگوں نے بھاگ کر اپنی جانیں بچائیں، آگ لگنے سے پل کے نیچے بنی تقریباً 200 جھونپڑیاں جل کر راکھ ہو گئیں اس بستی میں تقریباً 500 افراد رہائش پذیر تھے جو آگ لگنے کی وجہ سے چھت سے محروم ہوگئے۔ آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی شہر بھر سے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور کارروائی شروع کردی۔ تین ہٹی پُل پر اسنیپ چیکنگ میں مصروف پولیس نے جھگیوں میں بھڑکتی آگ دیکھتے ہی افسران بالا کو آتشزدگی کی اطلاع دی جس کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچتے ہی جھگیوں میں موجود 300 سے زائد خاندانوں کو بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔ آگ کی شدت میں اضافہ ہونے کے بعد ایم ڈی واٹر بورڈ اسداللہ خان کے حکم پر واٹر بورڈ کے ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی جس پر نیپا اور سخی حسن ہائیڈرنٹس سے متعدد ٹینکروں کے ذریعے سیکڑوں گیلن پانی آتشزدگی کے مقام پر پہنچایا گیا بعدازاں آج صبح تک آگ کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تین ہٹی پُل کے نیچے ہندو باگڑیوں نے کچی آبادی قائم کر رکھی ہے جس میں آگ لگی۔ یو سی چیئرمین شاہین طاہر نے بتایا کہ پُل کے نیچے 200 کے قریب جھگیاں قائم اور کم ازکم 500 افراد رہائش پذیر تھے، انہوں نے بتایا کہ فائر بریگیڈ عملہ فوری آگ نہ بجھا سکا، انہوں نے بتایا کہ متاثرہ افراد کے لیے لیاقت آباد سی ون ایریا میں ایک سرکاری اسکول میں عارضی رہائش کا بندوبست کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ آگ لگنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، دو بکریاں اور چند مرغیاں ہلاک ہوئیں۔ فائر بریگیڈ ترجمان کا کہنا تھا کہ 10 گاڑیوں نے ڈیڑھ گھنٹے جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا۔ علاوہ ازیں کمشنر کراچی نے آگ لگنے کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم بھی دے دیا ہے۔