پی ٹی آئی کے 19ارکان کی بغاوت ٗ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے پر غور

December 14, 2019 11:11 am0 commentsViews: 948

تحریک انصاف سندھ کی صوبائی حکومت گرانے کی کوشش میں اپنے درمیان ہی گروپ بنوا بیٹھی سندھ سے تعلق رکھنے والے 12اراکین قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے 7ارکان شدید ناراض ہے
وفاقی وزیر علی زیدی کے نامناسب روئیے نے سندھ سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کو بغاوت پر مجبور کردیا ٗناراض رہنما علی زیدی کی بے ضابطگیوں کی تفصیلات وزیراعظم کودینا چاہتے تھے ٗ وفاقی وزیرنے ان ارکان کی ملاقات ہی نہیں ہونے دی
فیصل واوڈا اور علی زیدی ہمارے نمائندے نہیں ہیں ناراض ارکان فہیم خان ٗ آفتاب جہانگیر ٗ عطاء ا ﷲ ٗ سلیم خان شکور شاکر ٗ جمیل خان اور اکرم چیمہ نے مرکزی قیادت کو آگاہ کردیا ٗ تحریک انصاف سندھ میں بڑی تبدیلیوں کے آثار نظر آرہے ہیں ٗ سیاسی ماہرین
کراچی (اسٹاف رپورٹر/مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف سندھ کے 19 ارکان اسمبلی نے بغاوت کردی، اسمبلیوں سے استعفے دینے پر غور، وفاقی وزیر علی زیدی کے نامناسب رویے نے ارکان اسمبلی کو بغاوت کرنے پر مجبور کر دیا۔ تحریک انصاف سندھ میں آئندہ چند ہفتوں کے دوران بڑی تبدیلیوں کے آثار نظر آنے لگے۔ باغی ارکان قومی اسمبلی نے مرکزی قیادت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا۔ علی زیدی کے خلاف شکایات کے انبار بھی لگا دیے۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف سندھ حکومت کو گرانے کی کوشش میں اپنا گروپ بنوا بیٹھی، تحریک انصاف کے7 ایم این ایز اور12 ایم پی ایز نے ناراض ہو کر الگ گروپ بنا لیا۔ تحریک انصاف کے 19 اراکین اسمبلی نے مستعفی ہونے پر غور شروع کر دیاسندھ سے تعلق رکھنے والے 12 اراکین قومی اسمبلی جبکہ 7 اراکین صوبائی اسمبلی وفاقی وزیر علی زیدی کے رویے سے شدید نالاں، اسمبلیوں کا بائیکاٹ کرنے کا آپشن بھی زیر غور ہے۔حکمراں جماعت تحریک انصاف بہت بڑے سیاسی بحران کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ ناراض ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کو وزیراعظم تک رسائی نہ ہونے کی شکایت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کابینہ میں کراچی کے دونوں وزراء علی زیدی اورفیصل واوڈا ہمارے نمائندے نہیں ہیں۔ مراد سعید سمیت وزیراعظم کے قریبی رفقاء کے ذریعے کوشش کرچکے کہ عمران خان تک ہمیں رسائی دی جائے۔ بظاہر وزیراعظم ہم سے ملنا ہی نہیں چاہتے۔ علی زیدی نے ایم این اے جمیل احمدکوپارلیمانی سیکرٹری کے عہدے سے ہٹوادیا۔ پی ٹی آئی سندھ کے19 ارکان کے ناراض ہونے کی وجہ سامنے آئی ہے کہ ناراض ارکان وفاقی وزیر علی زیدی کی بے ضابطگیوں کی تفصیل وزیراعظم کودینا چاہتے تھے، لیکن علی زیدی نے وزیراعظم سے ملاقات ہی نہیں ہونے دی، بلکہ محمود مولوی کی ملاقات کروا دی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی سندھ کے متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی پارٹی قیادت سے ناراض ہوگئے۔ ناراض ارکان نے اسمبلیوں میں حکومت کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیارکرنے پرغور شروع کردیا۔ بتایا گیا ہے کہ ناراض ارکان میں 7 قومی اسمبلی کے ارکان شامل ہیں، جن میں فہیم خان، آفتاب جہانگیر، عطاء اللہ، اسلم خان، شکور شاد، جمیل خان اور اکرم چیمہ شامل ہیں۔اس کے علاوہ ناراض ارکان میں سندھ اسمبلی سے12 ایم پی ایز بھی شامل ہیں۔ ناراض قومی و صوبائی اسمبلی ارکان کو وزیراعظم تک رسائی نہ ہونے کی شکایت تھی۔ انہوں نے کہا کہ مراد سعید اوروزیراعظم کے قریبی رفقاء کے ذریعے ملاقات کیلئے کوشش کرچکے ہیں۔ لیکن وزیراعظم ہم سے ملنا ہی نہیں چاہتے۔ ارکان نے بتایا کہ کابینہ میں کراچی کے دونوں وزراعلی زیدی اور فیصل واوڈا ہمارے نمائندے نہیں۔علی زیدی نے ایم این اے جمیل احمد کو پارلیمانی سیکرٹری کے عہدے سے بھی ہٹوا دیا ہے۔ جمیل احمد خان کی جگہ آفتاب صدیقی کو پارلیمانی سیکرٹری میری ٹائم افیئرز لگا دیا گیا۔ اسی طرح علی زیدی محمود مولوی کو پاکستان شپنگ کارپوریشن کا چیئرمین لگانا چاہتے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ جمیل احمد وفاقی وزیرعلی زیدی کی بے ضابطگیوں کی تفصیل وزیراعظم کودینا چاہتے ہیں۔ ناراض ارکان نے بتایا کہ علی زیدی نے وزیراعظم سے محمود مولوی کی ملاقات کروا دی مگرہم ملاقات نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے اسمبلیوں کے اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے اور پھراستعفے دیں گے۔