اداروں سے تصادم نہیں چاہتے ٗ جیل بھرو تحریک شروع کرینگے ٗ

October 23, 2019 11:40 am0 commentsViews: 650

حکومت کا مینڈیٹ جعلی ہے ٗ آزادی مارچ روکنے پر کوئی ڈیل یا سمجھوتہ نہیں ہوگا ٗ ہمارا دھرنا نہیں مارچ ہوگا ٗ مولانا فضل الرحمن
اب حکومت کو جانے سے کوئی نہیں روک سکتا ٗ اسمبلیوں سے اپوزیشن جماعتون کے ارکان کے اجتماعی استعفوں کی تجویز بھی زیر غور ہے تاہم یہ فیصلہ مناسب وقت پر کیا جائیگا ٗ ہمارا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت مستعفی نہیں ہوجاتی
احتجاج عوام کا آئینی اور قانونی حق ہے اداروں کو احتجاج میں غیر جانبدار رہنا چاہیے ٗ دھمکیاں اور مذاکرات اکٹھے نہیں ہوسکتے ٗ لیڈر شپ کی گرفتاری سے تحریک کو کوئی نقصان نہیں ہوگا ٗ جے یو آئی کے سربراہ کی غیر ملکی میڈیا سے گفتگو
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک/نیوز ایجنسیاں) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ وہ لانگ مارچ کے دوران اداروں سے کوئی تصادم نہیں چاہتے بلکہ ان کا احتجاج حکومت کے خلاف ہوگا، جیل بھرو تحریک بھی شروع کریں گے، حکومت کا مینڈیٹ جعلی ہے، شروع دن سے تسلیم نہیں کیا ہمارا دھرنا نہیں مارچ ہوگا، آزادی مارچ روکنے پر کوئی ڈیل یا سمجھوتا نہیں ہوگا، اسمبلیوں سے تمام اپوزیشن کے اجتماعی استعفے دینے کی تجویز زیر غور ہے، اسمبلیوں سے استعفوں کا فیصلہ مناسب وقت پر کریں گے۔ وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، مارچ کی مدت زیادہ نہیں ہوگی۔ غیر ملکی میڈیا کے ساتھ بات چیت میں فضل الرحمن نے کہا ان کا احتجاج تب تک جاری رہے گا جب تک حکومت مستعفی نہیں ہو جاتی، عوامی احتجاج ان کا آئینی اور قانونی حق ہے اور اس احتجاج میں اداروں کو غیر جانبدار رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا ادارہ ادارہ ہوتا ہے، میری حکومت ہوگی تب بھی ادارہ ہوگا اور میرے مخالفین کی حکومت ہوگی تب بھی ادارے کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔ آج ایک فرد ہے اس سے میرا گلہ شکوہ ہو سکتا ہے لیکن یہ کل چلا جائے گا کوئی اور آجائے گا۔ اگر مولانا فضل الرحمن دھرنا دینے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ایسے میں ان کی سیاسی جماعت کی ذیلی تنظیم انصارالاسلام کے کارکن بھی اس دھرنے کا حصہ ہوں گے۔ ہم ایک میدان میں کارکنوں کو تھکائیں گے نہیں، تحریک کی صورت میں مختلف میدانوں میں جائیں گے اور یہاں تک کہ جیل بھرو تحریک بھی شروع کریں گے۔ حکومت کی جانب سے مارچ سے قبل ان کی گرفتاری کے بارے میں کیے گئے ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا لیڈر شپ کی گرفتاری سے تحریک کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ انہوں نے حکومتی کمیٹی کے بارے میں کہا کہ دھمکیاں اور مذاکرات اکٹھے نہیں ہو سکتے، مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ حکومت کے خلاف آزادی مارچ پروگرام کے مطابق 27 اکتوبر سے شروع ہوگا اور 31 اکتوبر کو شرکاء اسلام آباد میں داخل ہوںگے، یہ دھرنا اور اسلام آباد کا لاک ڈائون نہیں ہم پی ٹی آئی کی طرح 126 دن کے دھرنے والی پالیسی کی پیروی نہیں کریں گے۔ مارچ مکمل طور پر پُرامن ہوگا اور ہم کسی سے بھی تصادم یا ٹکرائو کا ارادہ نہیں رکھتے، حکمت عملی خود بنائیں گے اپوزیشن کی تمام جماعتوں کا اتفاق ہے کہ موجودہ حکومت کو جانا چاہیے اور ہمارے آزادی مارچ کی حمایت کی ہے، حکومت سے کسی ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اگر ڈیل کرنی ہوتی تو اب تک کر چکے ہوتے، مجھے گرفتار کیا گیا تو عوام خود تحریک کی قیادت کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہم گرفتار ہوتے ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا ٹارگٹ 15 لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لانا ہے اور اگر پانچ لاکھ گرفتار بھی ہوتے ہیں تو دس لاکھ ضرور اسلام آباد آئیں گے۔ انہوں نے کہاکہ مدارس کی تنظیمات میں بھی مدارس بند کرنے کی ہدایت جاری نہیں کی، طلبہ کے استعمال کا ہمارے خلاف پروپیگنڈا ہو رہا ہے اور ہم پروپیگنڈے کا جواب نہیں دیتے۔ حکومت کے پاس جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔