کراچی میں رات کا غیر اعلانیہ کرفیو، رات 8بجے تمام دکانیں اور پیٹرول پمپ بند کرادئیے گئے

March 26, 2020 11:22 am0 commentsViews: 1782

سندھ حکومت نے شہر قائد میں جان لیوا کورونا وائرس کا پھیلائو روکنے کے لیے اقدامات مزید سخت کر دیے، شہریوں کی نقل و حرکت پر بھی پابندی لگا دی گئی
شہر کی سڑکوں پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کے علاوہ فوجی دستے بھی گشت کرنے لگے، جنرل اسٹور، کریانہ شاپس اور دودھ فروخت کرنے والی دکانیں بھی کھولنے کی اجازت نہیں تھی، رات 8 سے صبح 8 بجے تک صرف لازمی سروسز کے ملازمین اور میڈیا ورکرز کو آنے جانے کی اجازت ہے، غیر ضروری طور پر گھروں سے نکلنے والے شہریوں کو گرفتار کیا جارہا ہے
سندھ میں جیسے جیسے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے صوبائی حکومت اقدامات بھی سخت کرتی جارہی ہے، لاک ڈائون اور غیر اعلانیہ کرفیو کے باعث معمولات زندگی منجمد ہوگئے، پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں 62 فیصد افراد کی جانب سے حکومت کے اقدامات کو سراہا جارہا ہے، لاک ڈائون کو شہریوں کی حفاظت کے لیے ضروری قرار دے دیا گیا
کراچی (کرائم رپورٹر/بختیار خٹک) کراچی سمیت سندھ بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھنے کے بعد سندھ حکومت نے اقدامات سخت کرنا شروع کر دیے ہیں، کراچی میں رات کے اوقات میں غیر اعلانیہ کرفیو لگا دیا گیا۔ لوگوں کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی، پولیس اور رینجرز نے رات 8 بجتے ہی تمام علاقوں میں دکانیں اور پیٹرول پمپس بند کرا دیے جبکہ جنرل اسٹورز، کریانہ شاپس، دودھ کی دکانیں اور میڈیکل اسٹورز بھی رات 8 بجے کے بعد کھولنے پر پابندی لگا دی گئی۔ بدھ اور جمعرات کی شب کراچی کی سڑکوں پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کے علاوہ فوجی دستے بھی گشت کر رہے تھے۔ باخبر ذرائع کے مطابق سندھ حکومت آئندہ 48 گھنٹوں میں صوبے بھر میں باضابطہ طور پر کرفیو کے نفاذ کا اعلان کر سکتی ہے اس سلسلے میں فوجی حکام سے مشاورت بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ صوبے بھر میں کرفیو لگا کر عوام کی نقل و حرکت مکمل طور پر بند کر دی جائے گی تاکہ کورونا وائرس کو زیادہ پھیلنے سے روکا جاسکے، تاہم لازمی سروسز کے ملازمین اور میڈیا ورکرز و اخباری ہاکرز کو نرمی دینے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے۔ آج صبح بھی کراچی شہر اور مضافاتی علاقوں میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے لاک ڈاؤن جاری ہے، سڑکیں سنسان، کاروباری، صنعتی و تجارتی مراکز بند ہیں اور لوگ گھروں میں محدود ہیں جبکہ پولیس، رینجرز اور پاک فوج کا گشت جاری ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران اشیائے ضرورت سبزی، گوشت اور میڈیکل اسٹور کھلے رہے۔ ٹریفک پولیس کے مطابق کراچی میں مختلف اہم شاہراہیں بیریئرز لگا کر بند کی گئی ہیں، بلوچ کالونی، میٹروپول، نرسری، ملیر ہالٹ ناکہ بندی کرکے بند کیا گیا ہے جبکہ لیاقت آباد ،عائشہ منزل، راشد منہاس روڈ پر بھی ناکہ بندی کرکے روڈ بند کردیا گیا۔ شہر قائد میں مختلف مقامات پر کی گئی ناکہ بندیوں سے شہر میں جگہ جگہ ٹریفک کی روانی متاثر رہی، شارع فیصل پر بھی مختلف مقامات پر ٹریفک کو روک کر جانچ پڑتال کی گئی اور شہریوں کے شناختی کارڈ چیک کیا جاتے رہے۔ صوبے کے سب سے بڑے شہر کراچی کو لاک ڈائون ہوئے چند روز ہی ہوئے ہیں اور دو کروڑ سے زائد کے آبادی والے شہر میں معمولات زندگی منجمد ہوگئے ہیں۔ سروے کے مطابق سماجی دوری اختیار کرنے کی ہدایت کے بعد بہت سے افراد کی زندگی جیسے ٹھہر سی گئی ہے اور بہت سے لوگ اب اپنے اہل خانہ کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، کچھ لوگ اپنے مشاغل کو اب صحیح وقت دے پارہے ہیں جبکہ بہت سے لوگوں کو گھر کے روزہ مرہ کے معمولات سے فرار مشکل نظر آرہا ہے۔ سروے میں حصہ لینے والے افراد کی اکثریت یعنی 38 اعشاریہ 8 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ وہ اپنا زیادہ تر وقت انٹرنیٹ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر صرف کرتے ہیں۔ 11 اعشاریہ 6 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ وہ گھر کے کاموں میں مدد کرتے ہیں تاکہ ان کا بھی وقت گزرے، جبکہ 7 اعشاریہ 8 فیصد لوگ مطالعے میں وقت گزار رہے ہیں اور اتنے ہی فیصد ٹی وی دیکھ کر اپنے آپ کو بہلا رہے ہیں۔ ان افراد سے جب سماجی دوری کے حوالے سے پوچھا گیا تو 62 فیصد افراد نے صوبائی حکومت کے اقدام کو سراہا اور اسے ضروری قرار دیا کہ یہ لوگوں کی حفاظت کے لیے ضروری تھا جبکہ 30 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں تاہم وہ اپنے اہل خانہ کے تحفظ کے لیے قانون پر عمل کررہے ہیں۔