ملٹری اراضی پر قائم شادی ہالز فوری مسمار کرنے کا حکم

December 5, 2018 11:17 am0 commentsViews: 22

عدالت عظمیٰ نے ڈی ایچ اے کے تمام فیزز میں جدید لائبریریاں بنانے کی ہدایت کردی، شہر کی جھیلوں کو بھی اصل حالت میں بحال کرایا جائے گا
کے ایم سی بلڈنگ اور سٹی کورٹ کی درمیانی سڑک پر تعمیرات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے جواب طلب کرلیا، رفاہی پلاٹوں کو واگزار کرانے کا حکم بھی دے دیا گیا
کراچی (اسٹاف رپورٹر) عدالت عظمیٰ نے کراچی میں ملٹری اراضی پر شادی ہالز اور تجارتی سرگرمیاں خلاف قانون قرار دیتے ہوئے دفاعی مقاصد کے لیے حاصل کی گئی زمینوں سے شادی ہالز فوری ختم کرنے کی ہدایت کردی۔ جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کراچی رجسٹری میں شہر میں تجاوزات اور قبضوں کے حوالے سے اہم اجلاس ہوئے جن میں دفاعی مقاصد کے لیے حاصل کی گئی زمینوں پر قائم شادی ہالز ختم کرنے کا حکم دیا گیا۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ اسپتالوں کے لیے مختص زمینوں پر شادی ہالز بنائے گئے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے ڈی ایچ اے کے تمام فیزز میں جدید لائبریریاں بنانے کی بھی ہدایت کی۔ عدالت عظمیٰ نے شہر کے تمام پارکس سمیت رفاہی پلاٹوں کو ماسٹر پلان کے مطابق واگزار کرانے کا بھی حکم دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کے ایم سی بلڈنگ اور سٹی کورٹ کی درمیانی سڑک پر تعمیرات کا بھی نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے جواب طلب کرلیا۔ اسی اجلاس کے بعد کراچی رجسٹری میں ہونے والے دوسرے اجلاس میں عدالت عظمیٰ نے کراچی کی 4 جھیلوں سے غیر قانونی تعمیرات ختم کرانے کا حکم دے دیا۔ اجلاس میں میونسپل کمشنر ڈاکٹر سیف الرحمن، ڈی جی کے ڈی اے سمیع صدیقی سمیت دیگراعلیٰ حکام شریک تھے۔ اجلاس میں عدالت عظمیٰ نے کراچی کی تفریحی جھیلوں پر ہونے والے قبضوں کا نوٹس لیا۔ جسٹس گلزار احمد نے کراچی میں 4 جھیلوں سے غیر قانونی تعمیرات ختم کرانے کا حکم دے دیا، جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ شہریوں کی تفریح کے لیے مختص جھیلوں کو اصل شکل میں بحال کرایا جائے، کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس اورگلشن اقبال میں غیر قانونی تعمیرات موجود ہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے جھیلوں کو بحال کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔