اعظم سواتی کا معافی نامہ مسترد، عدالت خود ٹرائل کرے گی چیف جسٹس ثاقب نثار

December 6, 2018 11:09 am0 commentsViews: 2

وفاقی وزیر کا جواب پڑھ لیا، اعظم سواتی حاکم وقت ہیں کیا رعایا کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں، ملک کیلئے مثال بنیں، سماعت کے دوران عدالت کے ریمارکس
جے آئی ٹی رپورٹ میں اعظم سواتی پر الزام عائد کیا گیا ہے، جسٹس اعجاز، جرم ہوا ہے اس پر اتنی بڑی سزا نہ دیں، صدر سپریم کورٹ بار
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس میں وفاقی وزیراعظم اعظم سواتی کا معافی نامہ مسترد کردیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ عدالت عظمیٰ آرٹیکل62 ون ایف کے تحت وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی کا خود ٹرائل کریگی۔ بدھ کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس کی سماعت ہوئی جس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اعظم سواتی کا جواب پڑھ لیا ہے۔ آرٹیکل62 ون ایف کے تحت عدالت خود ٹرائل کریگی۔ اعظم سواتی حاکم وقت ہیں۔ کیا حاکم وقت رعایا کے ساتھ ایسا سلوک کرتا ہے۔ کیوں نہ اعظم سواتی کو ملک کیلئے مثال بنائیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں اعظم سواتی پر الزام عائد کیا گیا۔ صدر سپریم کورٹ بار نے بتایا کہ اعظم سواتی میرے ساتھ کام کررہے ہیں جرم ہوا ہے اس پر اتنی بڑی سزا نہ دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نئے آئی جی نے آتے ہی سرنگوں کردیا ہے جو دو وقت کی روٹی نہیں کھاسکتے۔ ان کو سزا ملے توشعور آئیگا۔ پی ٹی آئی نے اب تک اعظم سواتی کیخلاف کیا ایکشن لیا ہے۔ صدر سپریم کورٹ بارنے عدالت سے اعظم سواتی کو معاف کرنے کی درخواست کردی۔ اٹارنی جنرل انور منصور نے بتایا کہ نیب قوانین کے تحت معاملہ نہیں آتا چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ پھر آرٹیکل62 ون ایف کے تحت لڑائی کریں۔ کیا اعظم سواتی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔ ان کے پیسے ہمیں ڈیم فنڈز کیلئے بھی نہیں چاہئیں۔