قرضہ اور بینک گارنٹی کس نے دی تحقیقات ایف آئی اے کرے گی، چیف جسٹس

December 6, 2018 11:09 am0 commentsViews: 13

سپریم کورٹ اومنی گروپ کیخلاف پرچہ درج کرانے کی ہدایت
دھمکیوں کا پتہ ہے آوازیں سنادیں کہ کیسے جیل سے ہدایات دی جارہی ہیں، ریمارکس
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے نیشنل بینک کو اومنی گروپ کے خلاف پرچہ درج کرانے کی ہدایت کی ہے، عدالت نے آبزرویشن دی ہے کہ اومنی گروپ کو قرضہ اور بینک گارنٹی کس نے دی؟ تحقیقات ایف آئی اے کرے گی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ دھمکیوں کا پتا ہے، آوازیں سنا دیں کہ کیسے جیل سے ہدایات دی جارہی ہیں۔ عدالت نے اومنی گروپ کے وکلاء کو بھی ملزمان سے ملاقات کی اجازت دے دی ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، نیشنل بینک کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیے کہ چینی کے 25 لاکھ تھیلے غائب ہونا مجرمانہ فعل ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ نیشنل بینک میں سرکاری ریونیو جمع ہوتاہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ نیشنل بینک نے سمجھوتہ نہیں کرنا تو قانونی چارہ جوئی کرے، اگر اومنی گروپ کی پیشکش منظور نہیں تو متعلقہ فورم پر جائیں، فراڈ ہوا ہے تو سول اور فوجداری فورم سے رجوع کریں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ لگتا ہے بینک گارنٹی کے لیے ساری کارروائی کاغذی تھی، بینک کے ملوث عملے کے خلاف بھی پرچہ درج کرائیں۔ وکیل نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ اومنی گروپ نے نیشنل بینک کے 6 ارب روپے ادا کرنے ہیں بینک کے عملے کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔