بیرون ممالک سے رقوم کی واپسی کیلئے ٗ زرداری ٗ نواز کیخلاف نیا آرڈیننس لانے کا فیصلہ

December 6, 2018 11:09 am0 commentsViews: 7

منی لانڈر نگ کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں ٗ بدعنوانی کے ذریعے پاکستان سے لوٹی گئی قوم کو ہرصورت میں دنیا کے کونے کونے سے واپس لایا جائیگا ٗ چیئرمین نیب
پاکستان کے قومی خزانے کی لوٹ مار کے بعد نواز شریف اور زرداری سونے کے انڈے کھاکرکڑک ہوگئے ہیں دونوں نے اپنا آخری الیکشن لڑ لیا ان سے برآمد رقم پاکستان کی حکومت کے پاس آجائے تو قرضہ لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی ٗ نواز اور زرداری کی ایسی حیثیت ہے جیسی اقتدار سے ہٹنے کے بعد یحییٰ اور ایوب خان کی تھی ٗ وزیر اطلاعات فواد چوہدری
حکومت نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد کے حوالے سے بینکوں اور اسٹاک مارکیٹ میں ہونیوالی مشکوک ٹرانزیکشن کی تحقیقات کو موثر بنانے کیلئے فرانزک آڈٹ کرانے کا فیصلہ کرلیا ٗ تحقیقات کی بنیاد پر عدالتوں میں ٹھوس ثبوت پیش کرکے منی لانڈرنگ میں ملوث گروپوں اور کالعدم افراد کو سزائیں دلوائی جائیں گی ٗ ذرائع
اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں/ مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے بیرون ملک سے نواز شریف اور زرداری کی بھاری رقوم واپس لانے کے لیے نیا آرڈیننس لانے کا فیصلہ کرلیا۔ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نئے آرڈیننس کا ڈرافٹ تیار کر رہے ہیں جبکہ دیگر سینئر قانونی ماہرین سے بھی مشاورت کی جارہی ہے۔ ڈرافٹ مکمل ہونے کے بعد پارلیمنٹ سے رائے لی جائے گی اور آرڈیننس نافذ کر دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہاکہ نواز شریف اور زرداری سونے کے انڈے کھا کر کڑک ہوگئے، دونوں نے اپنا آخری الیکشن لڑ لیا۔ میاں صاحب، زرداری صاحب اور دیگر پانچ سات افراد کے لیے ہم نیا آرڈیننس لا رہے ہیں تاکہ جن لوگوں نے پاکستان میں بدعنوانی کی ہے اور رقم لوٹ کر بیرون ملک بھیجی ہے اسے واپس لایا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ ان سے برآمد رقم حکومت کے پاس آجائے تو قرض لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ڈالر کے اوپر یا نیچے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، نواز اور زرداری کی ایسی حیثیت ہے جیسی اقتدار سے ہٹنے کے بعد یحییٰ اور ایوب خان کی تھی، ہمیں کوئی سیاسی چیلنج درپیش نہیں سب سے بڑا چیلنج وعدوں کی تکمیل ہے، اور عمران خان کا سب سے بڑا وعدہ لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کا ہے جس کو پورا کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔ دوسری طرف وفاقی حکومت نے منی لانڈرنگ اور ٹیررازم فنانسنگ کے ضمن میں بینکنگ، انشورنس اور اسٹاک مارکیٹ میں ہونے والی مشکوک ٹرانزیکشنز کی تحقیقات کو موثر بنانے، ان ٹرانزیکشنز کا فرانزک آڈٹ کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس تحقیقات کی بنیاد پر ایک ٹھوس کیس بنا کر عدالتوں میں ثبوت کے ساتھ پیش کرکے منی لانڈرنگ کے کیسوں میں ملوث گروپوں اور کالعدم افراد کو سزائیں دلوانے کا عمل مستحکم بنایا جائے گا۔ بدھ کو مسلسل دوسرے روز 15 جنوری کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کے ساتھ پیرس میں شروع ہونے والے پاکستان کنٹری رسک اسیسمنٹ کے مذاکرات کے لیے قومی حکمت عملی کی تیاری کا عمل جاری رہا۔ ذرائع کے مطابق دنیا میں منی لانڈرنگ اور ٹیررازم فنانسنگ کے بڑے کیسوں کی تحقیقات کی رپورٹس کی روشنی میں پاکستان میں تحقیقات کو آگے بڑھایا جائے گا، دنیا بھر میں منی لانڈرنگ اور ٹیررازم فنانسنگ کے کیسوں کے عالمی شہرت یافتہ فیصلوں کی بنیاد پر پاکستان میں بھی کیسوں کے فیصلے کے لیے عدلیہ کے افسران کی جدید خطوط پر تربیت کا اہتمام کیا جائے گا۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ مستقبل میں بینکوں، مالیاتی اداروں، مشکوک ٹرانزیکشنز کی موثر تحقیقات کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس ضمن میں اسٹاک مارکیٹ، مالیاتی اداروں اور انشورنس سیکٹر کی موثر نگرانی کا عمل مستحکم بنایا جائے گا۔ علاوہ ازیں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہاکہ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ بدعنوانی سے لوٹی گئی اور منی لانڈرنگ سے بیرون ملک بھیجی گئی رقوم کو ہر صورت دنیا کے کونے کونے سے پاکستان واپس لایا جائے گا۔ بدعنوان عناصر کے خلاف قانون کے مطابق زمین تنگ کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت نیب کے خلاف ایک جارحانہ اور منظم مہم چلائی جارہی ہے، مقصد لوگوں میں مایوسی پیدا کرنا ہے لیکن یقین دلاتا ہوں کوئی ڈر، خوف، لالچ اور دھمکی نیب کے آڑے نہیں آئے گی۔ قانون سے کوئی بالاتر نہیں ہے، نیب کا کسی گروپ سے، کسی سیاست سے، کسی سیاستدان سے اور کسی حکومت سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ملک اس وقت 94 ارب ڈالرز کا مقروض ہے، یہ رقم ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوئی نظر نہیں آتی، دیکھنا ہوگا کہ ماضی میں اور اب کس نے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔ کئی لوگ دیکھتے ہی دیکھتے دبئی میں پلازوں کے مالک بن گئے، دیکھنا ہوگا کہ ان کے پاس یہ پیسہ کہاں سے آیا ہے۔ جاوید اقبال نے مزید کہاکہ پاکستان بدعنوانی کی فہرست میں 160 سے 170 نمبر پر آگیا ہے جبکہ پلڈاٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 59 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں۔