تفصیلی فیصلہ ملنے تک ٗ بلاول سمیت کسی کا نام ECLسے نہ نکالنے کا فیصلہ

January 11, 2019 12:05 pm0 commentsViews:

جعلی اکاؤنٹس کے معاملے پر 172افراد کے نام ای سی ایل میں برقرار ہیں ٗ سندھ کے اربوں روپے غیر قانونی طریقے سے باہر بھیجے گئے ٗ فواد چوہدری
ای سی ایل میں سے نام کے حوالے سے سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد جائزہ لیا جائیگا نظر ثانی کی درخواست دائر کی جائیگی ٗ وزیر اطلاعات کی بریفنگ
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی کابینہ نے ای سی ایل جائزہ کمیٹی کی جانب سے 20افراد کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی سفارش مسترد کردی، جعلی اکاؤنٹس معاملے میں 172افراد کے نام ای سی ایل میں برقرار ہیں،سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد ای سی ایل میں ڈالے گئے ناموں کا جائزہ یا فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں 26نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا، اجلاس میں منی لانڈرنگ کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا اور مختلف افراد کے نام ای سی ایل میں رکھنے اور نکالنے کے بارے میں تجاویز پیش کی گئیں، وفاقی کابینہ نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ موخر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے کا انتظار کیاجائے گا، معاملہ آئندہ اجلاس میں دوبارہ زیر غور آئے گا۔ جمعرات کو وزیراطلاعات ونشریات چودھری فواد حسین وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر شماریات خسرو بختیار اور سیکریٹری شماریات ڈویژن کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے، فواد حسین نے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس کا معاملہ 2015میں شروع ہوا جس میں سندھ حکومت کی اہم شخصیات بشمول وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ، آصف زرداری، فریال تالپور اس اسکینڈل میں مرکزی کردار ہیں، سندھ حکومت کے اربوں روپے بذریعہ مراد علی شاہ، اومنی گروپ، دبئی لندن، پیرس اور دیگرممالک تک پہنچے ہیں، جعلی اکاؤنٹس کی 2018میں تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی جس میں جے آئی ٹی کی سفارش پر 172افراد کے نام کابینہ نے ای سی ایل میں ڈالے تھے، وزارت اخلہ کی ای سی ایل جائزہ کمیٹی نے کابینہ کے اجلاس کے دوران 20لوگوں کے نام نکالنے کی سفارش کی جسے کابینہ نے مسترد کردیا، وزارت قانون وانصاف نے کابینہ کو بتایا کہ سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ تاحال موصول نہیں ہوا ، اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ عدالتی فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد ای سی ایل میں ڈالے گئے ناموں کا جائزہ لینے یا عدالتی فیصلے پر نظر ثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیاجائے گا، ای سی ایل میں شامل ناموں کا ایک کمیٹی جائزہ لے گی۔