سندھ اسمبلی ٗ تعلیمی فیسوں میں کمی ٗ عدالتی حکم پر عملدرآمد ہورہا ہے ٗ وزیر تعلیم

January 11, 2019 12:16 pm0 commentsViews: 5

فیسوں میں 20فیصد کمی نہ کرنیوالے سٹی اسکولز کے 65اور بیکن ہاؤس کے 56اسکولوں کی رجسٹریشن معطل ٗ سروے کیا جارہا ہے
گیس بحران سے انڈسٹری بند ٗ گھروں میں چولہے ٹھنڈے ہوگئے ٗ وفاقی حکومت کی نااہلی کی سزا سندھ کے عوام کو بھگتنا پڑرہی ہے ٗ وزیر پارلیمانی امور
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ کے وزیر تعلیم سیدسردار شاہ نے کہا ہے کہ اعلی عدلیہ نے پرائیویٹ اسکولوں کو تعلیمی فیسوں میں کمی کرکے انہیں واپس کرنے یا ایڈجسٹ کرنے سے متعلق جو عبوری حکم جاری کیا ہے سندھ کا محکمہ تعلیم اس پر عمل درآمد کرانے کے لئے ضروری اقدامات کرریا ہے ،تمام اسکولوں کو عدالتی حکم پر نوٹس جاری کیے گئے ۔جمعرات کو سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی خاتون رکن تنزلہ ام حبیبہ کے ایک توجہ دلا نوٹس کے جواب میں وزیر تعلیم سندھ کا کہنا تھا کہ فیسوں میں کمی سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل در آمد نہ کرنے پر سٹی اسکولز کے65ااسکولوں کی جبکہ بیکن ہاس والوں کے56اسکولوں کی رجسٹریشن معطل کی گئی۔ وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پرائیویٹ اسکولز کو عبوری طور پر یہ حکم دیاگیا تھا کہ وہ فیسوں میں 20فیصد کمی کریں۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے تو صرف فیسوں کا معاملہ اٹھا یا ہے ہم تو اسکالر شپ جیسے معاملات پر بھی نجی اسکولوں کو قواعد کا پابند بنانے کی کو شش کررہے ہیں اگر کسی اسکول میں دو ہزار طلبہ کی رجسٹریشن ہے توان پر لازم ہے کہ کم از کم200بچوں کو اسکالر شپ دیں تاکہ غریب بچے بھی اچھے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرسکیں۔انہوں نے بتایا کہ سندھ میں رجسٹرڈ نجی اسکولوں کی تعداد 12300ہے۔جن کا مکمل سروے کیا جارہا ہے اور ڈیڑھ ماہ میں اسکول شماری کاعمل مکمل کرلیا جائے گا۔پیپلز پارٹی کی خاتون رکن اسمبلی ہیر اسماعیل سوہو نے اپنے توجہ دلا نوٹس کے ذریعے اس امر کی نشاندہی کی کہ موسم سرما میں پورے سندھ میں گیس کا سنگین بحران ہے جس کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے اس موقع پر وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چالہ نے کہا کہ اس معاملے پر کئی بار وفاقی حکومت سے رابطہ کیا جاچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ گیس کے بحران کے باعث نہ صر ف سندھ میں سی این جی اسٹیشن اور انڈسٹریز بند ہیں بلکہ اب تو گھروں کے چولہے بھی ٹھنڈے پڑگئے ہیں اور گھروں میں گیس نہ ہونے سے لوگوں کے لئے کھانا تیار کرنا بھی ناممکن ہوگیا ہے۔وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ سندھ حکومت ایک مرتبہ پھر اس صورتحال پر وفاقی حکومت سے رابطہ کررہی ہے۔امور مکیش کمارچاؤلہ نے کہا کہ وفاق نے سندھ کا جو حال گیس کے سلسلے میں کیا ہے وہی حال پی سی بی میں بھی ہے۔وہاں ایک تماشہ لگا ہوا ہے ،پی سی بی ہمارے گراو نڈ ز کو شادی ہال کے لئے کرائے پردے دیتی ہے۔ ہم ایوان کے ذریعے سندھ کے حقوق کا مطالبہ کرینگے۔