نیب کا سامنا کرنا وزیراعظم کی توہین نہیں ٗ چیئرمین نیب

January 11, 2019 12:45 pm0 commentsViews: 3

قائد حزب اختلاف کارروائی کا سامنا کرسکتا ہے تو وزیراعظم بھی قانون سے بالاتر نہیں ٗ اگر کسی سے جرم ہوا ہے تو نیب کو تفتیش سے کوئی نہیں روک سکتا
چاہے این آر او کسی کو بھی دیا جائے کسی بھی شکل میں نیب اس کا حصہ نہیں بنے گا ٗ جسٹس ریٹائرڈ جاویداقبال کا فواد چوہدری کے بیان پر ردعمل کا اظہار
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی احتساب بیورو( نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ جب قائد حزب اختلاف نیب کی کارروائی کا سامنا کرسکتا ہے تو وزیراعظم کیوں نہیں۔ وزیراعظم قانون سے بالاتر نہیں۔ اگر کسی سے جرم ہوا ہے تو نیب کو تفتیش سے کوئی نہیں روک سکتا۔ چاہے این آر او کسی کوبھی دیا جائے یا کسی بھی شکل میں ہو نیب اس کا حصہ نہیں بنے گا۔ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔ لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے وزیراعظم پر نیب کیس کو ان کی توہین قرار دیئے جانے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ جب قائد حزب اختلاف نیب کی کارروائی کا سامنا کرسکتا ہے تو وزیراعظم کو کوئی استحقاق نہیں کہ وہ نیب کی کارروائی کاسامنا نہ کریں۔ بہت سادہ لوگ ہیں جنہوں نے وزیراعظم کی توہین کا کہا۔ یہ وزیراعظم کی توہین نہیں بلکہ ان کی عزت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ ان کی توقیر ہوئی ہے اور قد کاٹھ میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہے جبکہ وزیراعظم کا نعرہ تھا کہ وہ پاکستان سے بدعنوانی ختم کردیں گے۔ چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ آج تک حزب اقتدار سے رعایت کرنے کا نیب پر دباؤ نہیں، ایسا دباؤ آ بھی جاتا تو نیب کبھی اس کے امنے سرنگوں نہیں ہو گا۔ روز اول ہی کہا تھا کہ اپنا کام آئین اور قانون کے مطابق کریں گے۔ انہوں نے اپوزیشن سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف سے کہوں گا کہ تھوڑا باذوق ہونا چاہیے۔ ہم نے کبھی ایسی بات نہیں کہی ہمیں منشا بم کہا جائے۔ نیب کبھی منشا بم تھا اور نہ کبھی ہو گا، آپ اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ نیب ہائیڈروجن اور نائیٹروجن بم ہے جو صرف بدعنوانی کے خاتمے کے لیے آیا ہے۔