نیب لوگوں کی پگڑیاں اچھا ل رہا ہے ٗ سندھ ہائی کورٹ

January 11, 2019 12:58 pm0 commentsViews: 1

تفتیشی افسران کو قانون کا معلوم نہیں ٗ 6ماہ کیلئے جیل بھیج دیں تو پورا قانون جان جائیں گے ٗ نیب کیخلاف تو خود تحقیقات کی ضرورت ہے
کیا نیب میں نااہل لوگ بیٹھے ہیں ٗ راؤ انوار کیسے بحال ہوگئے ٗ راؤ انوار کا پاسپورٹ ضبط کیا جائے ٗ جب تک ٹرائل مکمل نہیں ہوتا وہ پاکستان میں رہیں گے ٗ چیف جسٹس کے ریمارکس
کراچی(اسٹاف رپورٹر) چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ احمد علی ایم شیخ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نیب کے خلاف تو خود تحقیقات کی ضرورت ہے، نیب نامعلوم شکایت پر لوگوں کی پگڑیاں اچھال رہا ہے۔ تفتیشی افسران کو بنیادی قانون کے بارے میں معلوم نہیں، 6ماہ کے لئے جیل بھیج دیں تو پورا قانون جان جائیں گے ، کیا نیب میں نااہل لوگ بیٹھے ہیں ، کال اپ نوٹس بنانا بھی نہیں آتا، نیب والے صرف ریفرنس بنانا جانتے ہیں، راؤ انوار بری کیسے ہو گئے، راؤ انوار پاکستان میں رہیں گے، جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ میں کرپشن سے متعلق مختلف انکوائریز میں ملزمان کی ضمانتوں سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران عدالت کو مطئمن نہ کرنے پر چیف جسٹس نیب حکام پر شدید برہم ہوئے اور ریمارکس دیئے کہ نیب کے خلاف تو خود تحقیقات کی ضرورت ہے، دو دو سال انکوائز سے کچھ برآمد نہیں ہوتا اور اگر یہی کارکردگی ہے تو ڈی جی نیب کو طلب کرلیتے ہیں، اگر آئندہ سماعت پر ریکارڈ نہ لائے تو جیل بھیج دیں گے، یہ سراسر لوگوں کو ہراساں کرنے کا معاملہ ہے، کسی کیس میں تفتیشی افسر پیش نہ ہوئے تو ڈی جی نیب کو بلا کر پورا دن عدالت میں کھڑا رکھیں گے۔ وکیل نے بتایا کہ راؤ انوار کا خاندان بیرون ملک ہے،جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ راؤ انوار کی فیملی کو بھی پاکستان بلالیں۔ عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کو حکم دیا کہ فائل پڑھ کر آئیں ورنہ آپ کو بھی آنے کی ضرورت نہیں، ملزمان کے خلاف ناقص تفتیش اور مختلف کیسز میں تفتیشی افسران کی عدم حاضری پر چیف جسٹس نے نیب حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ک نیب حکام 6.6گھنٹے لوگوں کو اپنے رحم وکرم پر رکھتے ہیں، کیا کوئی تفتیش نہیں جانتا، اگر ہر کسی کو بلا کر تذلیل کرنی ہے تو کیسے چلے گا، کسی پر الزام ہے تو ٹھوس شواہد بھی پیش کیے جائیں، لوگوں کو کال اپ نوٹس جاری کرکے ان سے ہی شواہد مانگے جاتے ہیں۔