پاکستان میں تبلیغی جماعت کسی انتشار کا شکار نہیں ہے ٗ مفتی رفیع عثمان

January 14, 2019 12:25 pm0 commentsViews: 7

علمائے کرام پاکستان سے باہر سراٹھانے والے کسی فریق کی حمایت میں بیان جاری نہ کریں ٗ امیر اور سوریٰ کا انتخاب باہمی مشوروں سے کیا جائے
بنگلہ دیش میں پیش آنیوالے سانحے اورہندوستان میں ہونیوالے خلفشار پر گہری تشویش کا اظہار ٗ اجلاس میں ملک بھر کے اکابر علماء کرام کی شرکت
کراچی(اسٹاف رپورٹر) تبلیغی جماعت کی موجودہ صورتحال پر شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کی دعوت پر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفع عثمانی کی صدارت میں دارالعلوم کراچی میں ملک بھر کے اکابر علماء کرام کا اجلاس ہوا ، اجلاس میں بنگلہ دیش میں پیش آنے والے سانحے اور ہندوستان میں ہونے والے خلفشار پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ تمام اکابر علماء کی طرف سے متفقہ طور پر تبلیغی جماعت کے چاروں مراکز کو ہمدرانہ اور خیر خواہانہ پیغام بھیجا جائے کہ وہ اپنے اختلافات کو ختم کریں اور اس کے لئے ہر قسم کی قربانی دیں اور تقریباً ایک صدی سے تبلیغی جماعت کے ذریعے دین حق کی تبلیغ واشاعت کا جو مقدس کام پھیل ہوا ہے اس کے ثمرات اور برکات کی حفاظت کے لئے کوشش کریں۔ اختلافات کو ابھارنے کی بجائے آپس میں مصالحت کریں، تحمل وبرداشت کو فروغ دیں، اجلاس میں مزید یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اکابر علما مصالحتی کردار ادا کریں گے اور وہ اس میں کسی فریق کی حمایت اور جانبداری نہیں کریں گے۔ ملک بھر سے شریک اکابر علما نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا کہ خلفشار پھیلانے کی مذموم کوششوں کے باوجود تبلیغی جماعت کی حمایت اور سرپرستی پہلے کی طرح جاری رہے گی۔ اکابر علماء نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ پاکستان میں تبلیغی جماعت کسی انتشار کا شکار نہیں ہے، بھرپور کوشش کی جائے گی کہ آئندہ بھی کسی قسم کا خلفشار پیدا نہ ہو، عالمی سطح پر تبلیغی جماعت کو انتشار سے بچانے کی ہر سطح پر بھرپور کوشش کی جائے گی، پاکستان میں جو اتفاق سے کام ہورہا ہے اس کی بنیاد پر کام کو آگے بڑھایاجائے گا، پاکستان کے علماء کرام پاکستان سے باہر سر اٹھانے والے کسی بھی فریق کی حمایت میں بیان جاری نہ کریں تاکہ غیر جانبداری برقرار رہے۔ اس کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ امیر اور شوریٰ دونوں ناگزیر ہیں، تاہم ان کا انتخاب باہمی مشوروں سے کیاجائے۔