بیرون ممالک میں ٗ اثاثے چھپانے والے ڈیڑھ لاکھ پاکستانیوں کا سراغ مل گیا

February 14, 2019 12:28 pm0 commentsViews: 7

4ہزار 691غیر ظاہر شدہ جائیدادوں کا بھی پتہ چل گیا جو سالانہ انکم ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کی گئی ہیں
ایف بی آر ایکٹ 2007کے تحت تشکیل کردہ پالیسی بورڈ کا پہلا اجلاس وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت منعقد کیا گیا
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان نے کہا ہے کہ بیرون ممالک غیر ظاہر شدہ اثاثے رکھنے والے ایک لاکھ 52 ہزار 201 پاکستانیوں کا سراغ لگا لیا۔ بدھ کو ایف بی آر ایکٹ 2007ء کے تحت تشکیل کردہ پالیسی بورڈ کاپہلا اجلاس وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں چیئرمین ایف بی آر نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے کام اور کارکردگی میں بہتری کے لیے حالیہ اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں ٹیکس چوروں کا گھیرا تنگ کرنے کے لیے نادرا کے ڈیٹا بیس کو استعمال میں لانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ بیرون ممالک غیر ظاہر شدہ 201 پاکستانیوں کا سراغ لگا لیا گیا ہے اور بیرون ممالک پاکستانیوں کی 4 ہزار 691 غیر ظاہر شدہ جائیدادوں کا بھی پتا چل گیا ہے جوکہ سالانہ انکم ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کی گئیں۔ جہانزیب خان کے مطابق 6 ہزار 451 امیر ترین لوگوں کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں اور ان سے 24 کروڑ 51 لاکھ روپے وصول کیے، جبکہ ایف بی آر کے افسروں کی دیانت داری اور قابلیت جانچنے کے لیے ایف بی آر میں انٹیگریٹی یونٹ قائم کر دیا گیا ہے۔ چیئرمین ایف بی آر محمد جہانزیب خان نے حالیہ اقدامات سے متعلق پالیسی بورڈ اجلاس میں ٹیکس پالیسی اور انتظامیہ کو الگ کرنے، ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کے مسودے، دہرے ٹیکسوں سے بچنے کے لیے سوئس معاہدے کی توثیق پر بریفنگ دی۔