منی لانڈرنگ پر 10 سال قید 50 لاکھ جرمانہ ہوگا قانون میں ترمیم کا فیصلہ

March 14, 2019 12:12 pm0 commentsViews: 3

اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترمیم کرکے اس میں اینٹی ٹیرر ازم ایکٹ کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا
نئی قانونی ترمیم کے بعد منی لانڈرنگ کے حوالے سے تمام جرائم کا ٹرائل چھہ ماہ سے ایک سال میں مکمل کیا جائے گا
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کو قانون کے کٹھہرے میں لانے کے لیے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010ء کی متعلقہ دفعات کو اینٹی ٹیررازم ایکٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ منی لانڈرنگ پر 10 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانے کی تجویز پر بھی غور ہو رہا ہے۔ وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس ہوا، وزیر قانون محمد فروغ نسیم نے وزیراعظم کو منی لانڈرنگ کے قوانین کو مزید موثر بنانے کے لیے فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947ء اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010ء اور اینٹی ٹیررازم ایکٹ 1997ء میں کی جانے والی ترامیم پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترمیم کرکے اے ایم ایل جرائم کی سزا دس سال تک جبکہ جرمانہ بڑھا کر 50 لاکھ کیا جائے گا۔ فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947ء میں ترمیم کے ذریعے فیرا قوانین کی خلاف ورزی کی سزا دو سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی تجویز دی گئی۔ مجوزہ ترمیم کے ذریعے فیرا سے متعلقہ جرائم قابل دست اندازی اور ناقابل ضمانت کیے جائیں گے۔ فیرا میں مجوزہ ترامیم کے ذریعے فیرا کیسز میں تمام جرائم کا ٹرائل چھ ماہ سے ایک سال میں مکمل کیا جائے گا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کرپٹو کرنسی سے متعلقہ انکوائریز میں تقریباً 540 ملین روپوں کی رقوم کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ مشکوک ٹرانزیکشنز کی 335 رپورٹس موصول ہوئیں جن میں 510 افراد کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ حوالہ ہنڈی میں واضح کمی آئی ہے اور انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں محض پندرہ پیسے کا فرق ہے۔ بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں پر قانونی ٹیکس کے حوالے سے ایف بی آر کی جانب سے 14 ارب کی ڈیمانڈ پیدا ہوئی اس میں سے 6 ارب روپے وصول کیے جاچکے ہیں۔