سپریم کورٹ ٗ شہریوں کی FIRدرج کرانے کیلئے ماتحت عدالتوں کا اختیار ختم

March 14, 2019 12:24 pm0 commentsViews: 10

سائلین کو اب درخواستوں کی سماعت کیلئے ڈسٹرکٹ کمپلینٹ ادارے سے رجوع کرنا پڑے گا ٗ نیا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا
اندراج مقدمہ کے کیسز کی سماعت کرنیوالے ججز سے درخواستیں فوری واپس لے لی گئیں ٗاقدام سے عدالتوں پر بوجھ کم ہوگا ٗ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) شہریوں کی ایف آئی آر درج کرانے کے لیے ماتحت عدالتوں کا اختیار سپریم کورٹ نے ختم کر دیا، اب شہری عدالتوں کے ذریعے ایف آئی آر درج نہیں کرا سکیں گے۔ ایف آئی آر درج کرانے کے لیے ضلعی شکایتی اداروں سے رجوع کرنا پڑے گا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اندراج مقدمہ سے متعلق سیکشن 22 اے، 22 بی ختم کردی جس کے بعد عدالتوں سے مقدمات کا بوجھ کم ہونے لگا اور سائلین اب اندراج مقدمہ کے لیے عدالت نہیں آسکیں گے۔ چیف جسٹس پاکستان کے فیصلے کے بعد سیشن جج لاہور نے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کے تحت سائلین کو اب اندراج مقدمہ کے لیے ڈسٹرکٹ کمپلینٹ ادارے سے رجوع کرنا پڑے گا۔ ڈسٹرکٹ کمپلینٹ سیل ایس ایس پی کی سربراہی میں قائم کیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے قومی جوڈیشل پالیسی کے اجلاس میں سیکشن 22اے اور 22بی کے خاتمے کی منظوری دی تھی، جس کے نتیجے میں لاہور کی سیشن عدالتوں نے 15 ہزار سے زائد درخواستیں آدھے گھنٹے میں نمٹا دیں جبکہ اندراج مقدمہ کے کیسز کی سماعت کرنے والے ججز سے درخواستیں فوری واپس لے لی گئیں۔