چیک بائونس ہونے پر 3 سے 10 سال قیدجرمانہ بھی ہوگا

March 16, 2019 12:21 pm0 commentsViews: 4

قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کی رکن کشور زہرا نے بل پیش کیا تھا، ڈپٹی اسپیکر نے رائے شماری کے بعد منظور کرلیا
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی نے چیک بائونس ہونے پر سزائوں میں اضافے کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا، بل کے تحت جتنی مالیت کا چیک بائونس ہوگا اس سے ڈبل جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ چیک کی مالیت کے لحاظ سے 3 سے 10 سال تک قید کی سزا ہو سکے گی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم کی رکن کشور زہرا نے مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860 اور مجموعہ فوجداری 1898 میں مزید ترمیم کرنے کا بل (فوجداری قانون ترمیمی بل 2018ء دفعہ 489) منظوری کے لیے پیش کیا جسے ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے رائے شماری کے بعد متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ بل کے تحت 10 لاکھ یا اس سے کم نوعیت کا چیک بائونس ہونے پر 3 سال تک قید اور جتنی مالیت کا چیک ہوگا اس سے ڈبل جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی، بل کے تحت دس لاکھ سے پچاس لاکھ تک کا چیک بائونس ہونے پر پانچ سال تک قید اور جتنی مالیت کا چیک ہوگا اس سے ڈبل جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔ 50 لاکھ سے ایک کروڑ کا چیک بائونس ہونے پر 7 سال تک قید اور جتنی مالیت کا چیک ہوگا اس سے ڈبل جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔ ایک کروڑ سے زائد کا چیک لائونس ہونے پر 10 سال کی سزا اور جتنی مالیت کا چیک ہوگا اس سے ڈبل جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔