کراچی میں کاروں کی خریدوفروخت میں جعلی کاغذات کا اسکینڈل بے نقاب

March 21, 2019 1:13 pm0 commentsViews: 19

کراچی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ کے افسران وعملہ ملوث نکلا ٗ کمپنی کے جعلی لیٹر لگا کر دوبارہ رجسٹریشن کروا کر مارکیٹ میں گاڑیاں فروخت کررہا تھا
شوروم ایسوسی ایشن نے کارڈڈیلروں کو خبردار کردیا کاروں کی خریدوفروخت میں احتیاط کریں ٗ چیئرمین سٹی کار محمد نعیم نے ایف آئی اے کو خط لکھ دیا
کراچی (کرائم ڈیسک) کاروں کی خرید و فروخت میں جعلی کاغذات کے استعمال کا اسکینڈل سامنے آگیا، اسکینڈل میں کراچی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ کے افسران و عملہ بھی ملوث پایا گیا۔ خالد بن ولید روڈ پر قائم سٹی کار کے چیئرمین محمد نعیم نے ایف آئی اے کے کائونٹر ٹیررازم ونگ کو خط لکھ کر آگاہ کیا کہ کراچی میں گاڑیوں کی مارکیٹ سے کئی گاڑیاں فروخت کی گئیں تو شکایت موصول ہوئی کہ ان کے کاغذات جعلی اور گاڑیاں چوری کی یا چھینی ہوئی ہیں۔ اس حوالے سے شوروم ایسوسی ایشن نے کار ڈیلروں کو خبردار کیاکہ کاروں کی خرید و فروخت میں احتیاط کریں۔ ذرائع نے بتایا کہ کراچی کار ایسوسی ایشن کی چار رکنی ٹیم نے اس معاملے پر کام شروع کیا اور اسلام آباد والوں کے شوروم گئے جہاں انہوں نے کمپنی کا لیٹر دیکھا تو کمپنی والے بھی حیران ہو گئے کہ یہ لیٹرتو ہماری کمپنی کا ہی ہے، کمپنی نے اس لیٹر کو اپنے پرنٹنگ پریس بھیجا تو معلوم ہوا کہ وہ لیٹر جعلی ہے۔ ایف آئی اے سی ٹی ڈبلیو، اینٹی کار لفٹنگ سیل اور کمپنی کے افسران نے انکوائری شروع کرائی تو انکشاف ہوا کہ چوری اور چھینی جانے والی کاروں کی کمپنی کے جعلی لیٹر پر کراچی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ سے دوبارہ نئی رجسٹریشن کرائی گئی اور وہ کار شوروم سے فروخت ہوئی۔