سپریم کورٹ: بحریہ ٹاؤن کی 460 ارب روپے کی پیشکش قبول

March 21, 2019 2:22 pm0 commentsViews: 6

اسلام آباد: عدالت عظمیٰ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے کراچی کے اپنے منصوبے کے لیے 460 ارب روپے کی پیش کش قبول کرلی، جس کے مطابق بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کو 7 سال میں 460 ارب روپے کی ادائیگی کرنا ہوگی۔

نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ اسلام آباد میں جسٹس شیخ عظمت سعید پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس کی سماعت کی، اس دوران عدالت عظمیٰ نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن 27 اگست تک 25 ارب کی ڈاؤن پیمنٹ کرے گا اور پہلے 4 سال میں ڈھائی ارب روپے ماہانہ اور باقی رقم 3 سال میں ادا کی جائے گی۔ فیصلے کے مطابق بحریہ ٹاؤن اقساط کی پہلی ادائیگی یکم ستمبر سے کرے گا اور ڈھائی ارب روپے کی پہلی قسط یکم اگست کو دے گا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بحریہ ٹاؤن اگر اقساط کی ادائیگی میں تاخیر کرے گا تو اسے 4 فیصد سود ادا کرنا ہوگا۔ رقم عدالت میں جمع ہوگی پھر اس کو قانون کے مطابق جس کو دینی ہے دیں گے ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ رقم کی ادائیگی سے متعلق بحریہ ٹاؤن کے ڈائریکٹر بیان حلفی عدالت میں جمع کرائیں۔ عدالت نے کیس کے متعلقہ لوگوں کے خلاف نیب کو ریفرنس دائر کرنے سے بھی روک دیا اور کہا کہ اگر بحریہ ٹاؤن والے ڈیفالٹر ہوئے تو ریفرنس دائر کیا جائے گا۔ ساتھ ہی عدالت نے پہلے سے تیار ریفرنس کو بھی دائر کرنے سے روک دیا اور کہا کہ کوئی بھی ریفرنس دائر کرنے سے پہلے عدالت کو الگ درخواست دی جائے گی۔

واضح رہے کہ 4 مئی 2018ء کو سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ اور تبادلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کراچی کو رہائشی، کمرشل پلاٹوں اور عمارتوں کی فروخت سے روک دیا تھا۔