شعبہ انصاف میں بہتری پارلیمنٹ کی ترجیح نہیں‘ چیف جسٹس

April 13, 2019 2:19 pm0 commentsViews: 2

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہا ہےکہ بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں نہیں، لہٰذا پارلیمنٹ اور انتظامیہ کو بھی عدلیہ کی طرح انصاف کے شعبے میں بہتری کی ذمہ داری لینا ہوگی۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق وفاقی جوڈیشل اکیڈمی میں فوری فراہمی انصاف کے حوالے سے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ برطانیہ اور دیگر ملکوں میں مقدمے کے فیصلوں کے لیے وقت مقرر کیا جاتا ہے، امریکا اور برطانیہ کی سپریم کورٹ سال میں 100 مقدمات کے فیصلے کرتی ہیں، پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایک سال میں 26 ہزار مقدمات کے فیصلے کیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ کے 3 ہزار ججز نےگزشتہ سال 34 لاکھ مقدمات کے فیصلے کیے، فوری اور سستے انصاف کی فراہمی عدلیہ کی ذمے داری ہے جب کہ ماڈل کورٹس کے قیام کا مقصد فوری اور سستے انصاف کی فراہمی تھا، ماڈل کورٹس مشن کے تحت قائم کی گئی تھیں، ماڈل کورٹس کا تجربہ آئین کے آرٹیکل 37 ڈی پر عملدرآمد کرنا ہے، ماڈل کورٹ کا مقصد التوا کا باعث بننے والی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھاکہ جب سے جج بنا ہوں، میرا مقصد فوری انصاف کی فراہمی رہا ہے، جوڈیشل پالیسی کے تحت مقدموں کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا، مقدما ت کا التوا ختم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں، پولیس کو مقدمے کی فوری تحقیقات کر کے چالان پیش کرنا چاہیے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مزید کہا کہ مقدمات کا وقت مقرر کرنے سے انصاف کا حصول آسان ہوگا، کسی وجہ سے وکیل کے پیش نہ ہونے پر جونیئر کو مقرر کیا جائے گا، مقدمے میں کسی وجہ سے استغاثہ کے پیش نہ ہونے پر متبادل انتظام کیا جائے گا، کیمیکل ایگزامینر اور فرانزک اتھارٹیز کی رپورٹس کو مقررہ مدت پرپیش کرنےکو یقینی بنانا ہوگا۔

معزز چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جوڈیشل پالیسی بہتر بنانے کے لیے سفارشات اور ترامیم کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیاگیا، بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں نہیں، پارلیمنٹ اور انتظامیہ کو بھی عدلیہ کی طرح انصاف کے شعبے میں بہتری کی ذمہ داری لینا ہوگی۔ ان کاکہنا تھاکہ عدالتی قوانین واضح ہیں بس انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے، انسداد دہشتگردی ایکٹ سمجھنے کے لیے قانون میں تعارف موجود ہے، قوانین میں ابہام دور کرنے کے لیے اٹارنی جنرل سے رائے مانگی جاتی ہے، ملکی قوانین میں انسانی حقوق کو مد نظر رکھاجاتا ہے۔