کراچی کے ترقیاتی فنڈز میں ٗ کروڑوں کی بندربانٹ نیب ریڈار پر آگئی

April 15, 2019 12:00 pm0 commentsViews: 11

100سے زائد دیگر بڑے ٹھیکوں اور ان کی تخمینی لاگت میں کئی گناکئے گئے اضافے پر بھی تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا
بلدیہ کراچی کے افسران نے سیپرا قوانین کا غلط استعمال کرکے مبینہ طور پر اربوں کے فنڈز ہڑپ کئے ہیں ٗ ذرائع
کراچی(وقا ئع نگار خصوصی)کراچی کے ترقیاتی فنڈز کی بے دردی کے ساتھ کی جانے والی بندر بانٹ کا بڑا اسکینڈل منظر عام پر آگیا،ایمرجنسی ورک اورریوائز اسٹیمیٹ بناکر اربوں کے فنڈز ٹھکانے لگائے گئے،بلدیہ عظمی کراچی میں ایمرجنسی ورک کے نام پر دیئے گئے کروڑوں لاگت کے ڈائریکٹ کنٹریکٹ نیب کے ریڈار پر آگئے، 100سے زائد دیگر بڑے ٹھیکوں اور ان کی تخمینی لاگت میں کئی گنا کئے گئے اضافے پر بھی تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا،انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق بلدیہ کراچی محکمہ انجینئرنگ کے افسران کی جانب سے گذشتہ 5سالوں کے دوران چہیتے ٹھیکیداروں کو دیئے گئے اربوں کے ترقیاتی کاموں میں سنگین بدعنوانیوں پر اعلی سطحی تحقیقات جاری ہیں،اس سلسلے میںذرائع کا کہنا ہے کہ صرف مالی سال 2016-17 ء میں ترقیاتی کاموں کے ٹھیکوں اور فنڈز کی بندر بانٹ کے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ کراچی محکمہ انجینئرنگ کی جانب سے جام صادق برج کی مرمت کا ٹھیکہ ایمرجنسی ورک قرار دیکر بغیر ٹینڈر انصاف اینڈ برادرز نامی فرم کو دیا گیا جس کی منظور شدہ لاگت جوکہ12کروڑ14لاکھ روپے تھی اس میں حیران کن طور پر کئی گنا اضافہ کر کے لاگت کو21کروڑ62لاکھ روپے تک پہنچادیا گیا،ایمرجنسی ورک کے نام پر دیا گیا کام ایمرجنسی میں مکمل ہونے کے بجائے 6ماہ کے طویل عرصے میں مکمل کیا گیا اور سرکاری فنڈز کی مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر بند بانٹ کی گئی،اسی طرح ذوالفقار آباد آئل ٹینکر پارکنگ ٹرمینل فیز II کاکام جس کی منظور شدہ لاگت42کروڑ99 لاکھ تھی اس میں بھی اضافہ کر کے اسے 57 کروڑ تک پہنچایا گیا،مذکورہ کروڑوں لاگت کا ٹھیکہ بھی انصاف اینڈ برادرز نامی فرم کو ہی دیا گیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمی کراچی میں چند سالوں کے دوران اربوں روپے کے منصوبوں کی بندر بانٹ کر کے افسران نے کراچی کی ترقی کو دائو پر لگادیا جبکہ منتخب نمائندوں کے چارج لینے کے بعد بھی کرپشن کی بہتی گنگا اسی طرح بہتی رہی ہے جس پر نیب اعلی سطحی تحقیقات کر رہا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ کراچی کے افسران نے سیپرا قوانین کا غلط استعمال کرکے مبینہ طور پراربوں روپے کے فنڈز ہڑپ کئے ہیں،جبکہ ان کاموں کی ٹینڈرنگ شفاف بنانے کے بجائے محکمہ جاتی پول کراکر بھاری کمیشن وصولی کی گئی جس میں بلدیہ کراچی کے اعلی حکام سمیت محکمہ بلدیات سندھ کے حکام نے بھی بہتی گنگا میں ڈبکیاں لگائی ہیں۔