بھرتی میں بے قاعدگیوں پر میئر کراچی نے ڈنڈا اٹھالیا

April 15, 2019 12:05 pm0 commentsViews: 5

ذمہ داران کے تعین اور حقیقی کنٹریکٹ ملازمین کی جانچ پڑتال کیلئے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی گئی
ایسے 2 سو افراد کو بھی فہرست میں ڈال دیا گیا جو کبھی بھی کے ایم سی میں کنٹریکٹ ملازم ہی نہیں تھے
کراچی(وقائع نگار خصوصی)بلدیہ عظمی کراچی میں کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیے جانے کے دوران  200 سے زائد غیر متعلقہ افراد کو نوکریوں کی فراہمی سمیت بے قاعدگیوںکی نشاندہی پر میئر کراچی نے ڈنڈا اٹھالیا اور ذمہ داروں کے تعین اور حقیقی کنٹریکٹ ملازمین کی جانچ پڑتال کے لیے 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی چیئرمین اسلم آ فریدی کی سربراہی میں تشکیل دے دی ہے۔تفصیلات کے مطابق میئر کراچی نے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیے جانے کے دوران  بے قاعدگیوںکی اطلاعات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دارں کے تعین کے لیے چیئرمین اسٹیبلشمنٹ کمیٹی اسلم آ فریدی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں ڈائریکٹر ایف اینڈ اے(آ ر آ ر)عمران احمداور ڈائریکٹر پیرول بلال منظر اراکین ہونگے۔ذرائع کے مطابق کمیٹی پابند ہوگی کے وہ مستقل کیے جانے والے کنٹریکٹر ملازمین کی مکمل چھان بین کرے ان کے سابقہ کنٹریکٹ لیٹر سمیت وصول کی جانے والی تنخواہوں کی بھی تصدیق کرکے حقیقی اصل کنٹریکٹ ملازمین کو کلیئر کرے اور میئر کراچی کی ادارے کے ملازمین کے لیے اتنی اہم پیش رفت کو ذاتی فائدے کے لیے متنازعہ بنانے والوں کا تعین کرے۔ واضح رہے کہ میئر کراچی کی کوششوںسے سالہا سال سے کے ایم سی میں کنٹریکٹ پر فرائض انجام دینے والے سینکڑوں ملازمین کو مستقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم بعض بااثر افسران نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مبینہ 200 ایسے افراد کو بھی فہرست میں ڈال کر مستقل ملازمت کے لیٹر جاری کرادیے جو کبھی بھی کے ایم سی میں کنٹریکٹ پر ملازم ہی نہیں رہے ان افراد کے لیے مختلف ڈائریکٹر پر دباو ڈالا جاتا رہا کہ وہ ان کی بغیر میڈیکل کے پرسنل فائل اور سروس بک بنا کر ایچ آ ر ایم کو دے دیں باقی کام ایچ آ ر ایم خود کر لے گا ذرائع کے مطابق صورتحال سے افسران نے میئر کراچی کو آ گاہ کردیا تھا جبکہ میڈیا کے ذریعے کی مبینہ بدعنوانی کی نشاندہی کی گئی تھی۔