بڑھتے خطرات ملک میں سائبر سیکورٹی اتھارٹی بنانے کا فیصلہ

April 15, 2019 12:15 pm0 commentsViews: 4

پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 45 ملین سے تجاوز کرگئی جس میں 25 فیصد سے زائد نشانہ بنتے ہیں
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں سائبر سیکورٹی کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر حکومت نے سائبر کرائم کی روک تھام کے اقدامات پر غور شروع کر دیا۔ جس کے تحت سائبر سیکورٹی اتھارٹی بنانے کا فیصلہ کر لیا جبکہ حکومت نے مختلف وزارتوں کے 44 ادارے سرمایہ پاکستان کمپنی کو سپرد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں سائبر حملوں کی روک تھام اور بچائو کے لیے وفاقی حکومت نے اہم قدم اٹھا لیا، سائبر سیکورٹی کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر حکومت نے سائبر سیکورٹی اتھارٹی بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کی دستاوزات کے مطابق تجویز کردہ سائبر سیکورٹی کے بورڈ میں تمام اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں گے جبکہ ادارے کو سائبر سیکورٹی یقینی بنانے کے لیے تمام جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ دستاویزات کے مطابق سائبر دھمکیوں اور خطرات کو یہ اتھارٹی موثر انداز میں کائونٹر کرے گی جبکہ وزیر آئی ٹی خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں کمیٹی سائبر سیکورٹی فریم ورک پر کام کر رہی ہے۔ وزارت آئی ٹی حکام کے مطابق سائبر سیکورٹی اتھارٹی سائبر قوانین پر عملدرآمد کے لیے کام کرے گی جبکہ سائبر حملوں سے بچنے کے لیے کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس وقت پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 45 ملین سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ 25 فیصد سے زائد انٹرنیٹ صارفین سائبر حملوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ وزیر برائے آئی ٹی خالد مقبول صدیقی نے کمیٹی کو بتایا تھا کہ سائبر سیکورٹی اتھارٹی بنانا انتہائی ضروری ہے، روزانہ کی بنیادوں پر مختلف ویب سائٹس پر آنے والا مواد جلد ختم نہیں کیا جاسکتا، قابل اعتراض مواد کے ختم کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔