بلدیہ ضلع شرقی میں نامعلوم افراد کی حکومت قائم

April 23, 2019 12:32 pm0 commentsViews: 14

کے ایم سی کی حدود میں پبلک پراپرٹی غیر قانونی طور پر ایڈورٹائزنگ کمپنیوں کے حوالے کی جانے لگیں
ضلع کے پول برائے فروخت، چیئرمین لاعلم اور ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ بھی بے خبر نکلے
کراچی ( وقا ئع نگار خصوصی) بلدیہ ضلع شرقی میں نامعلوم افراد کی حکومت قائم،ڈی ایم سی کی حدود میں عدالتی احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں جاریں،پبلک پراپرٹی غیر قانونی طور پر ایڈورٹائزنگ کمپنیوں کے حوالے کی جانے لگی،چورنگیوں اور پارکوں کے بعدضلع کے پول بھی برائے فروخت، چیئرمین بھی لاعلم اور ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ بھی بے خبر،سینئر افسران نے ڈی ایم سی میں نامعلوم افراد کی سرگرمیوں کو جنات کا اقدام قرار دیدیا۔تفصیلات کے مطابق بلدیہ ضلع شرقی میں عدالتی احکامات کی سنگین خلاف ورزیاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ عدالتی احکامات کیخلاف اجازت نامے کون جاری کر رہا ہے اس سے ضلع شرقی کے چیئرمین معید انور سمیت ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ عبدالغنی بھی لاعلم اور بے خبر ہیں، بلدیہ ضلع شرقی آئوٹ ڈور ایڈورٹائزمنٹ کمپنیوں کیلئے سونے کی کان کہلایا جاتا ہے جس کی اہم شاہراہوں ،سڑکوںاور چورنگیوں پر عدالتی پابندی کے باوجود کھلے عام ایڈورٹائزمنٹ کی بھرمار کا سلسلہ کھلے عام جاری ہے،ڈی ایم سی کا کوئی پول ایسا نہیں جہاں غیر قانونی طور پر اسٹیمرز موجود نہ ہوں،ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈورٹائزمنٹ کے نام پر ماہانہ کروڑوں روپے کی لوٹ مار کی جارہی ہے تاہم اس کی ذمہ داری کوئی قبول کرنے کو تیار نہیں جس کے باعث ضلع شرقی کی کارکردگی ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے،سندھی مسلم ہائوسنگ سوسائٹی کی اہم چورنگی کو ایک مرتبہ پھر نامعلوم افراد نے ایک نجی فوڈ کمپنی کے حوالے کردیا ہے جس نے پوری چورنگی پر قبضہ کر کے اپنی زبردست تشہیری مہم شروع کردی ہے۔