سندھ اسمبلی میں ٗ کوئٹہ میں ہزارہ برادری پر حملے اور بچی مشوا کی ہلاکت کے معاملے پرقرار داد پیش

April 23, 2019 12:35 pm0 commentsViews: 3

ہزارہ کمیونٹی کے افراد کے مارے جانے پر مذمتی قرار داد نادر مگسی اور نصر ت سحر عباسی کی جانب سے پیش کی گئی ٗ بلوچستان متاثر ہوا تو پاکستان متاثر ہوگا ٗ نادر مگسی
پی ٹی آئی کی ڈاکٹرسیما ضیا ء اور پی پی کی غزالہ عمر سیال کی قرار داد میں بھی مشوا کی موت کی تحقیقات کرانے اور ذمہ داروں کو سز ا دلوانے کا مطالبہ
کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی میں پیر کو حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی اور کراچی کی معصوم بچی نشواہ کے معاملے پر مذمتی قرار داد ایوان میں پیش کی گئی مذمتی قرار داد نادر مگسی اور اپوزیشن کی نصرت سحر‘رعنا انصار نے پیش کی ۔ نادر مگسی نے کہا کہ بلوچستان میں جس طرح یہ کام کیا گیا وہ بہت ہی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد گوادر میں جو سرمایہ کاری آئی ہے وہ متاثر ہوگی۔ اگر بلوچستان متاثر ہوا تو پاکستان کو ٹارگٹ کے برابر بات ہوگی۔ رعنا انصار نے کہا کہ یہ واقعات خطرناک ہیں کیا ہزارہ کمیونٹی پاکستانی نہیں ہے۔ یم کیو ایم کے رکن جاوید حنیف نے کہا کہ ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ ہونے والے واقعات جو مذہبی عدم آہنگی کا باعث ہیں انتہائی افسوسناک ہے۔ صوبائی وزیر شہلا رضا نے کہا کہ ہم صرف مذمت نہیں بلکہ اس ملک میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی ڈاکٹر سیما ضیاء اور پی پی کی غزالہ سیال نے نشوا کی موت پر قرار داد ایوان میں پیش کی کی جس میں اس کی موت کی تحقیقات کرانے اور غفلت کے مرتکب افراد کو سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ایوان نے یہ قرار داد بھی منظور کرلی۔ ایوان نے سری لنکا میں دہشت گردی کے واقعات کیخلاف مذمتی قرار داد بھی اتفاق رائے سے منظور کرلی۔