یوٹیلیٹی اسٹورز پر روز مرہ استعمال کی اشیاء غائب چیف سیکریٹری کا ایکشن

May 8, 2019 11:54 am0 commentsViews: 3

کراچی میں 25 مقامات پر بچت بازار، حیدرآباد میں 18، سکھر میں 6 جبکہ شہد بے نظیر آباد میں 12 بچت بازار لگائے گئے ہیں، کمشنر کی بریفنگ
یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیاء کی موجودگی کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت کو لکھا جائے گا، رمضان میں قیمتوں پر قابو رکھنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کریں، چیف سیکریٹری
کراچی (نیوز ڈیسک/اسٹاف رپورٹر) سندھ حکومت کی بدعنوانی کے نئے اسکینڈل کا انکشاف، اکائونٹ سے زکوٰۃ فنڈ کے تقریباً 2 ارب روپے غائب ہوگئے۔ مستحق افراد کی فرضی فہرستیں تیار کرکے رقم کی خورد برد کی گئی ہے جبکہ نیب کے بعد سندھ میں محکمہ اینٹی کرپشن نے بھی کروڑوں روپے کی بدعنوانی اور سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث سرکاری افسران کے خلاف کارروائیاں تیز کردیں۔ تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت میں کرپشن کا نیا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ حکومت سندھ کے اکائونٹ سے 1.867 ارب روپے کی زکوٰۃ غائب یا خوردبرد ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ مستحقین زکوٰۃ کے 117 کروڑ روپے سندھ بینک نے تقسیم کرنے کے بجائے 4 ماہ تک سیونگ اکائونٹ میں رکھ کر منافع کمایا۔ مستحق خاندانوں اور جہیز فنڈز کے لیے مختص 82 کروڑ روپے بھی خورد برد ہوگئے۔ آڈیٹر جنرل پاکستان نے مالی سال 2017-18ء کی آڈٹ رپورٹ میں سندھ کے معذوروں، مستحقین، یتیموں اور بیوائوں کے لیے مختص زکوٰۃ فنڈز میں مجموعی طور پر ایک ارب 90 کروڑ روپے کی خورد برد کا انکشاف کیا ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت کی زکوٰۃ کمیٹیوں اور وزارت زکوٰۃ و عشر نے مستحق افراد کی فرضی فہرستیں تیار کرکے بھاری فنڈز خورد برد کرلیے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 2 برس کے دوران وزارت زکوٰۃ و عشر میں مجموعی طور پر ایک ارب 90 کروڑ روپے کی زکوٰۃ کی رقم خوردبرد کی گئی ہے۔ کراچی، بدین، ٹھٹھہ، لاڑکانہ، حیدرآباد اور دیگر اضلاع میں زکوٰۃ کمیٹیاں 2 کروڑ روپے کے اخراجات کا حساب نہیں دے سکیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ میں مستحق خاندانوں کے نام پر جاری 2 کروڑ 15 لاکھ روپے اور جہیز کی مد میں 91 لاکھ روپے جبکہ بیوائوں کے فنڈز اور تعلیمی وظائف سمیت مجموعی طور پر 82 کروڑ روپے خوردبرد کر لیے گئے۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے 3 بڑے اسپتال زکوٰۃ فنڈز کے 6 کروڑ روپے سے ٹینڈر کے بغیر خریدی گئی ادویات کا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کر سکے، علاوہ ازیں کراچی کے 2 نجی اسپتالوں نے زکوٰۃ فنڈز کے 3 کروڑ روپے مستحقین پر خرچ کرنے کے بجائے اپنے اکائونٹ میں منتقل کردیے اور ضلع نوشہروفیروز میں ضلعی زکوٰۃ کمیٹی نے کسی دستاویز کے بغیر 86 لاکھ روپے کی مشکوک تقسیم کی ہے جس کا ریکارڈ جعلی ہے، اس حوالے سے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں نیب کے بعد محکمہ اینٹی کرپشن سندھ کی کارروائیوں میں بھی تیزی آگئی ہے۔ کروڑوں روپے کی بدعنوانی اور سرکاری اختیارات کے غلط استعمال میں ملوث افسران کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا۔ منگل کو چیف سیکرٹری سندھ کی زیر صدارت اینٹی کرپشن کمیٹی ون کے اجلاس میں اربوں روپے مالیت کی گندم خوردبرد میں ملوث 15 افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی منظوری دے دی گئی جبکہ محکمہ تعلیم، بلدیات سندھ کے کرپٹ 21 افسران و اہلکاروں کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ درج کرنے کی منظوری دی گئی۔ اینٹی کرپشن کمیٹی ون نے محکمہ صحت، اسکولز ایجوکیشن اور دیگر محکموں میں 67 اوین انکوائریز شروع کرنے کی منظوری دی۔