سپریم کورٹ نے میشا شفیع اور علی ظفر کو غیر ضروری درخواستیں دائر کرنے سے روک دیا

May 15, 2019 12:12 pm0 commentsViews: 4

میشا عدالت سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں
علی ظفر کے وکیل کو ایک ہفتے میں گواہوں کے بیانات جمع کرانے کا حکم
اسلام آباد (آئی این پی) گلوکارہ میشا شفیع اداکار علی ظفر کی طرف سے دائر ہتک عزت کے دعوے سے متعلق درخواست کی سماعت میں سپریم کورٹ سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ عدالت نے 9 گواہوں کے بیانات اور جرح ایک ساتھ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے گواہان پر بیان کے فوری بعد جرح کرنے کا ڈسٹرکٹ کورٹ کا حکم بھی کالعدم قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ نے میشا شفیع اور علی ظفر کو غیر ضروری درخواستیں دائر کرنے سے بھی روک دیا۔ میشا شفیع کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ اگر اگلی سماعت پر جرح کے لیے تیاری نہ کر سکا تو ایک ہفتے کا وقت دیا جائے، عدالت نے میشا شفیع کے وکیل کی یہ استدعا بھی منظور کرلی عدالت نے میشا شفیع کی درخواست نمٹا دی۔ منگل کو سماعت کے دوران عدالت نے علی ظفر کے وکیل کو ایک ہفتے میں گواہوں کے بیان حلفی جمع کرانے کا حکم بھی دے دیا۔ میشا شفیع کے وکیل نے گواہان پر جرح کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت مانگ لیا، عدالت نے اپنے حکم میں کہاکہ میشا شفیع کے وکیل گواہان پر جرح کی تیاری سات روز میں مکمل کریں، تیاری کے بعد ایک ہی روز گواہان پر جرح مکمل کرنے کی کوشش کی جائے۔ میشا شفیع کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہاکہ ان کی موکلہ علی ظفر کے تمام گواہوں کو نہیں جانتی، وہ علی ظفر کے ملازمین ہیں۔ علی ظفر کے وکیل نے کہاکہ کوئی گواہ علی ظفر کا ملازم نہیں ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا علی ظفر کا میشا شفیع کی درخواست پر بنیادی اعتراض کیا ہے؟ علی ظفر کے وکیل نے کہاکہ قانون کے مطابق گواہ کا بیان اور جرح ایک ہی دن ہوتی ہے اس پر جسٹس فائز عیسیٰ نے کہاکہ بیان اور جرح ایک ہی دن ہونے کا اختیار عدالت کا ہے۔ میشا شفیع کے وکیل نے کہا گواہان کی لسٹ مل جائے تو ایک دن میں جرح کر لیں گے۔

سپریم کورٹ نے میشا شفیع اور علی ظفر کو غیر ضروری درخواستیں دائر کرنے سے روک دیا
میشا عدالت سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں
علی ظفر کے وکیل کو ایک ہفتے میں گواہوں کے بیانات جمع کرانے کا حکم
اسلام آباد (آئی این پی) گلوکارہ میشا شفیع اداکار علی ظفر کی طرف سے دائر ہتک عزت کے دعوے سے متعلق درخواست کی سماعت میں سپریم کورٹ سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ عدالت نے 9 گواہوں کے بیانات اور جرح ایک ساتھ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے گواہان پر بیان کے فوری بعد جرح کرنے کا ڈسٹرکٹ کورٹ کا حکم بھی کالعدم قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ نے میشا شفیع اور علی ظفر کو غیر ضروری درخواستیں دائر کرنے سے بھی روک دیا۔ میشا شفیع کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ اگر اگلی سماعت پر جرح کے لیے تیاری نہ کر سکا تو ایک ہفتے کا وقت دیا جائے، عدالت نے میشا شفیع کے وکیل کی یہ استدعا بھی منظور کرلی عدالت نے میشا شفیع کی درخواست نمٹا دی۔ منگل کو سماعت کے دوران عدالت نے علی ظفر کے وکیل کو ایک ہفتے میں گواہوں کے بیان حلفی جمع کرانے کا حکم بھی دے دیا۔ میشا شفیع کے وکیل نے گواہان پر جرح کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت مانگ لیا، عدالت نے اپنے حکم میں کہاکہ میشا شفیع کے وکیل گواہان پر جرح کی تیاری سات روز میں مکمل کریں، تیاری کے بعد ایک ہی روز گواہان پر جرح مکمل کرنے کی کوشش کی جائے۔ میشا شفیع کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہاکہ ان کی موکلہ علی ظفر کے تمام گواہوں کو نہیں جانتی، وہ علی ظفر کے ملازمین ہیں۔ علی ظفر کے وکیل نے کہاکہ کوئی گواہ علی ظفر کا ملازم نہیں ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا علی ظفر کا میشا شفیع کی درخواست پر بنیادی اعتراض کیا ہے؟ علی ظفر کے وکیل نے کہاکہ قانون کے مطابق گواہ کا بیان اور جرح ایک ہی دن ہوتی ہے اس پر جسٹس فائز عیسیٰ نے کہاکہ بیان اور جرح ایک ہی دن ہونے کا اختیار عدالت کا ہے۔ میشا شفیع کے وکیل نے کہا گواہان کی لسٹ مل جائے تو ایک دن میں جرح کر لیں گے۔