ہرشخص سالانہ 50ہزار پلاسٹک ذرات بطور غذا نگل رہا ہے ٗ کینیڈین ماہرین

June 11, 2019 1:00 pm0 commentsViews: 9

اس وقت دنیا میں سالانہ 45کروڑ ٹن پلاسٹک تیار کیا جاتا ہے ٗ کھانے پینے کی ڈسپوزل چیزیں بڑی مقدار میں تیار کی جاتی ہیں
دنیا بھر میں موجود سمندروں میں ہر 10منٹ کے اندر کوڑے کرکٹ کا ایک ٹرک پھینکا جاتا ہے جس میں زیادہ تر کچرا پلاسٹک کا ہوتا ہے ٗ تحقیق میں انکشاف
نیویارک (این این آئی) کینیڈین ماہرین نے ایک تحقیق میں حیران کن انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر شخص سالانہ 50 ہزار پلاسٹک ذرّات نگل رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا میں سالانہ 45 کروڑ ٹن پلاسٹک تیار کیا جاتا ہے جس سے کھانے اور پینے کی ڈسپوزیبل چیزیں بھی بڑی مقدار میں بنائی جاتی ہیں دنیا بھر میں موجود سمندروں میں ہر 10 منٹ کے اندر کوڑے کرکٹ کا ایک ٹرک پھینکا جاتا ہے جس میں زیادہ تر کچرا پلاسٹک کاہوتا ہے۔ آج کے جدید دور میں پاکستان سے برطانیہ، امریکا سے جاپان، چین سے ترکی، سعودی عرب سے ملائیشیا تک انسان کھانے اور پینے کی چیزوں کے لیے پلاسٹک سے بنی چیزیں استعمال کرتا ہے اور یہی چیزیں انسان کے لیے خطرہ ثابت ہو رہی ہیں۔ اپنی نوعیت کی پہلی اور منفرد حالیہ تحقیق کے مطابق دنیامیں موجود ہر شخص سالانہ 50 ہزار پلاسٹک ذرّات نگل رہا ہے، دنیا کی کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں پلاسٹک کے ذرّات موجود نہ ہوں اور وہ انسان کو متاثر نہ کر رہے ہوں۔ کینیڈین ماہرین کی جانب سے کی جانے والی اپنی نوعیت کی منفرد تحقیق کے مطابق انسان نہ صرف پلاسٹک ذرّات کو بطور غذا نگل رہا ہے بلکہ وہ سانس لینے کے دوران بھی پلاسٹک کے انتہائی چھوٹے ذرّات کو اپنے جسم میں داخل کر رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زمین کی ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں پلاسٹک ذرّات موجود نہ ہوں، سمندر کی گہرائی سے لے کر ساحل سمندر کی ریت، پانی کی بوتل سے لے کر ڈسپوزیبل کھانے کے پیکٹوں اور راستوں پر پلاسٹک یا اس کے ذرّات موجود ہوتے ہیں۔ ماہرین نے ماضی میں ہونے والی 26 تحقیقات کے ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد بتایا کہ زیادہ تر انسان مچھلی کھانے، پانی اور بیئر پینے، پلاسٹک مصنوعات میں پیک نمک، چینی اور مصالحہ جات استعمال کرنے کے دوران پلاسٹک کے ذرّات اپنے جسم میں داخل کر رہا ہے۔