وفاقی بجٹ عوام دشمن اور انڈسٹری کیلئے سونامی قرار بزنس کمیونٹی نے مسترد کردیا

June 12, 2019 12:28 pm0 commentsViews: 6

حکومت کا یہ مشکل بجٹ ہے، نور احمد خان، کسی بھی طرح سے بزنس فرینڈلی بجٹ نہیں ہے (ایس ایم منیر) معاشی ایجنڈے کے لوگ ٹھیک نہیں، سراج قاسم تیلی
ایک عام فرد کیلئے گھر کا حصول ناممکن ہوکر رہ جائے گا، حنیف گوہر، چینی پر قیمت بڑھا کر عوام سے مٹھاس چھین لی، شبنم ظفر، مہنگائی میں بے تحاشا اضافہ ہوگا
کراچی (کامرس رپورٹر) فیڈریشن چیمبر آف کامرس، کراچی چیمبرز آف کامرس، ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل، زیرو ریٹیڈ ٹیکسٹائل سیکٹر نے کہا ہے کہ مالی سال 2019-20 کا وفاقی بجٹ عوام دشمن اور انڈسٹریز کے لیے تباہ کن ہے جس سے مہنگائی میں بے تحاشا اضافہ ہوگا۔ ایف پی سی سی آئی کے قائم مقام صدر نور احمد خان نے نئے مالی سال کے بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے زیرو ریٹڈ سیکٹر پر بھی ٹیکس عائد کر دیا ہے جس سے ایکسپورٹرز پر منفی اثر پڑے گا، پی ٹی آئی حکومت نے بزنس کمیونٹی سے جو وعدے کیے وہ پورے نہیں کیے۔ یہ بجٹ مشکل بجٹ ہے جس سے ہمیں مایوسی ہوئی کیونکہ بزنس کمیونٹی کی بجٹ سے توقعات پوری نہیں ہوئیں، پاکستان افواج نے اپنے بجٹ میں جو کمی کی ہے وہ قابل تحسین ہے۔ یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر نے کہاکہ یہ کسی بھی طرح سے بزنس فرینڈلی بجٹ نہیں ہے کیونکہ فائلرز پر ہی مزید ٹیکسوں کا دبائو ڈال دیا گیا ہے، ایکسائز ڈیوٹی دنیا بھر میں ختم ہو گئی ہے لیکن پاکستان میں بہت زائد شرح سے لگا دی گئی ہے جس سے مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوگا، زیرو ریٹیڈ ٹیکسائل انڈسٹری کو برباد کر دیا گیا ہے، پہلے ہی 400 ارب روپے کے ریفنڈز حکومت کے پاس ہیں جو وعدوں کے باوجود کئی سال سے نہیں دیے گئے اور اگر مزید 400 ارب روپے حکومت کے پاس جمع ہوئے تو کیسے دے گی؟ بزنس مین گروپ کے سربراہ سراج قاسم تیلی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ عمران خان کے معاشی ایجنڈے کے لیے جو لوگ کام کر رہے ہیں وہ ٹھیک نہیں، ٹیکسٹائل پر 17 فیصد، اسٹیل پر 17 فیصد، آٹو موبائل 10 فیصد، جیولری ماربل پر 17 فیصد ڈیوٹی بڑھا دی گئی۔ چینی، گھی، کوکنگ آئل، مشروبات پر ڈیوٹی 17 فیصد بڑھائی گئی، ایف بی آر کو ٹیکس وصولی کے لیے 5550 ارب روپے کا انتہائی مشکل ہدف دیا گیا ہے۔ بجٹ تقریر میں کہا گیا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں عام آدمی پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا تاہم لگ بھگ تمام ہی صنعتوں پر نئے ٹیکس عائد کیے گئے ہیں جس سے یقینی طور پر عام عوام براہ راست متاثر ہوں گے۔ چینی پر جی ایس ٹی میں اضافے سے کیا عام آدمی متاثر نہیں ہوگا؟ صنعتیں نئے ٹیکس لگنے کے بعد اپنی اضافی پیداواری لاگت کو عوام تک منتقل کریں گی جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ چینی کے ساتھ ساتھ سیمنٹ پر بھی ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے جس سے تعمیرات مہنگی ہو جائیں گی اور لوگوں کے لیے اپنے گھروں کی تعمیر کا خواب مزید مشکل ہو جائے گا۔ ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر حنیف گوہر نے کہاکہ لکڑی پر ڈیوٹی ختم ہونے سے تعمیرات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے لیکن سیمنٹ اور سریے کی لاگت بڑھنے سے تعمیرات مہنگی ہوں گی اور ایک عام فرد کے لیے گھر کا حصول ناممکن ہو کر رہ جائے گا۔ سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی شبنم ظفر نے کہاکہ خواتین بزنس مینوں کا تعلق کاٹیج انڈسٹری سے ہے لیکن موجودہ بجٹ کاٹیج انڈسٹری اور ایس ایم ایز کے لیے بھی زہر قاتل ثابت ہو گا، چینی پر 3 روپے سے زائد قیمت بڑھا دی، سیمنٹ کی قیمت بڑھا دی یہ عام آدمی کو متاثر کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ افواج پاکستان نے بجٹ میں اضافہ نہ لینے کا جو فیصلہ کیا ہے اس پر میں پاکستان افواج کو سلیوٹ کرتی ہوں۔ کے سی سی آئی کے سابق صدر زبیر موتی والا کا کہنا تھا کہ چینی، گھی اور کھانے کے تیل مہنگے کر دیے گئے ہیں، پانچ برآمدی سیکٹرز پر 17 فیصد ڈیوٹی ناقابل قبول ہے، ابھی ہمیں بھی نہیں معلوم کہ کہاں کہاں ٹیکس لگائے گئے ہیں، یہ ایک سخت بجٹ ہے جو پتا نہیں کس کی ایماء پر بنایا گیا ہے۔ پاکستان ہوزری مینوفیکچرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید بلوانی کے مطابق پی ٹی آئی نے اقتدار میں آنے سے پہلے جو ٹیکسٹائل پالیسی پیش کی تھی موجودہ بجٹ اس کے برعکس ہے، ایکسپورٹرز حکومت کے ایس آر او 1125 کی منسوخی کی تجویز کو مسترد کرتے ہیں۔ گارمنٹس کی تیاری سے شپمنٹس تک 4 ماہ کا عرصہ لگتا ہے اور سال میں 3 ایکسپورٹ سائیکل بنتے ہیں، ایکسپورٹرز کی سالانہ 54 فیصد تک لکویڈیٹی پھنس جائے گی اس طرح ایکسپورٹرز کے ریفنڈز کی ادائیگی کا دورانیہ 8 ماہ سے بھی بڑھ جائے گا، زیرو ریٹیڈ اسکیم کا خاتمہ ایکسپورٹ انڈسٹریز کے لیے مسائل اور بربادی کا باعث بنے گا، سرمایہ بیرون ملک منتقل ہوگا۔ ایف پی سی سی آئی کے سابق سینئر نائب صدر خالد تواب نے کہاکہ حکومت کا بجٹ عوام دوست نہیں ہے، بجٹ میں اسمگلنگ کو روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا گیا، اسمگلنگ بڑھنے سے حکومت کا ریونیو کم ہوگا۔