سمندر میں سیکورٹی اہلکاروں کی زیادتی ماہی گیروں کا احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ

June 12, 2019 12:37 pm0 commentsViews: 5

دہشت گردوں کی تلاش کی آڑ میں سمندری سیکورٹی اہلکاروں نے ماہی گیروں کے لئے کام کرنا مشکل ترین بنادیا ہے
کسٹم کی جانب سے مختلف سرٹیفکیٹس کی مد میں ماہی گیروں سے لاکھوں روپے بھتہ وصول کیا جاتا ہے، محمد علی شاہ کا اجلاس سے خطاب
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی کے ماہی گیر بھی احتجاج کے لیے تیار، زیادتیوں کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق ابراہیم حیدری میں سیکڑوں ماہی گیر عورتوں اور مردوں کا پاکستان فشر فوک فورم کی قیادت میں مشاورتی اجلاس کیا گیا اس میں ماہی گیروں کے بنیادی حقوق اور سمندر میں سیکورٹی کی آڑ میں ماہی گیروں کے ساتھ زیادتیوں کے خلاف منظم اور متحد تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس موقع پر ماہی گیروں کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فشر فوک فورم کے مرکزی چیئرمین محمد علی شاہ نے کہاکہ کراچی کے ماہی گیروں کو متعدد بنیادی مسائل درپیش ہیں جس میں سب سے بڑا مسئلہ سمندر میں ماہی گیروں کے ساتھ سیکورٹی اہلکاروں کی زیادتیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردوں کی تلاش کی آڑ میں سمندری سیکورٹی اہلکاروں نے ماہی گیروں کے لیے زمین تنگ کردی، انہوں نے کہاکہ کسٹم کی طرف سے مختلف سرٹیفکیٹس کی مد میں ماہی گیروں سے ماہانہ لاکھوں روپے بھتہ وصول کیا جارہا ہے جو کسٹم کی طرف سے ایک غیر قانونی عمل ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان فشرفوک فورم ماہی گیروں کی ملک گیر تنظیم ہونے کے ساتھ سماجی تحریک کی حیثیت رکھتی ہے ماہی گیروں نے ہمیشہ پاکستان فشر فوک فورم کے پلیٹ فارم سے اپنے حقوق کے حصول کے لیے بھرپور اور منظم تحاریک جاری رکھ کر متعدد کامیابیاں حاصل کی ہیں، ہم نے ماہی گیروں کے حقوق کے حصول کے لیے منظم تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔ جان عالم جاموٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ماہی گیروں کے ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ کوئی نئی بات نہیں، ماہی گیروں کے ساتھ کسٹم اور سمندری سیکورٹی اہلکاروں کی زیادتیوں سمیت مفاد پرست لوگ کالے کوئوں کا ٹولہ بنا کر ماہی گیروں کی مچھلی میں ٹھونگیں مار رہے ہیں مگر اب وہ وقت آن پہنچا ہے جب ماہی گیر متحد اور منظم ہو کر ان کی ہر سازش کو ناکام کر دیں گے۔