زرداری کو آزادنہ کیا تو جیالوں کا کراچی سمیت ملک بھر کو ڈی چوک بنانے کا اعلان

June 12, 2019 12:41 pm0 commentsViews: 4

کراچی سمیت اندرون سندھ کے مختلف شہروں میں سیاہ پٹیاں باندھ کر یوم سیاہ منایا گیا ٗ پریس کلب پر احتجاج اور دھرنے ٗ ریلیاں نکالی گئیں
اب سلیکٹڈ حکومت کیخلاف آخری دم تک جدوجہد کریں گے ٗ نثار کھوڑو ٗ مرتضی بلوچ ٗ ساجد جوکھیو ودیگر کا خطاب
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کو آزاد نہ کیا تو ملک بھر کو ڈی چوک بنا دیں گے، بجٹ سے توجہ ہٹانے کے لیے زرداری کو گرفتار کیا گیا اب سلیکٹڈ حکومت کے خلاف آخری دم تک جدوجہد کریں گے، اگر گرفتار کرنا ہے تو پھر پیپلز پارٹی کے تمام کارکنوں کو گرفتار کیا جائے، حکومت نے جو کچھ کرنا تھا کرلیا اب عوام کی باری ہے، اب جیالے دمادم مست قلندر کریں گے اور حکمراں چھپتے پھریں گے زرداری کو رہا نہ کیا تو جیالے اسلام آباد کا گھیرائو کریں گے۔ نیب تحریک انصاف کی بی ٹیم ہے حکومت اس طرح کے ہتھکنڈے بند کر دے ورنہ حکومت کا جلد خاتمہ ہو جائے گا، جیالوں نے کراچی سمیت اندرون سندھ کے مختلف شہروں میں سیاہ پٹیاں باندھ کر یوم سیاہ منایا، پریس کلب پر احتجاج اور دھرنے دیے گئے، ریلیاں نکالی گئیں، گو عمران گو، نو عمران نو اور مختلف نعرے لگائے گئے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو، صوبائی وزیر مرتضیٰ بلوچ، ایم پی اے ساجد جوکھیو، ایم پی اے شاہینہ بلوچ اور دیگر کی سربراہی میں ملیر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، حکومت اور نیب کے خلاف نعرے لگائے گئے اور آصف زرداری کو آزاد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس موقع پر نثار کھوڑو اور دیگر رہنمائوں نے کہاکہ آصف زرداری کو آزاد نہ کیا گیا تو ملک بھر کو ڈی چوک بنا دیں گے، گرفتاری سیاسی انتقام کا نتیجہ ہے، بجٹ سے توجہ ہٹانے کے لیے گرفتار کیا گیا، نیب عمران کی حکومت کا حصہ بن چکا ہے۔ پیپلز یوتھ آرگنائزیشن سندھ کے ترجمان تیمور علی مہر اور نائب صدر طارق بلیدی نے کہاکہ پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے، ہم جیلوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں پی پی کی خواتین رہنمائوں نے سیاہ پٹیاں باندھ کر کراچی پریس کلب پر احتجاج کیا۔ ادھر حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی پی رہنما سینیٹر عاجز دھامرا نے کہاکہ نیازی سرکار اور نیب کے درمیان مک مکا ہے، اگر گرفتار کرنا ہے تو پھر پیپلز پارٹی کے تمام کارکنوں کو گرفتار کیا جائے۔ سلیکٹڈ حکمراں میڈیا، پارلیمنٹ اور عدلیہ بھی سلیکٹڈ چاہتے ہیں حکومت آخر کیا کرنے جارہی ہے، اگر حکومت لڑنا چاہتی ہے تو ہم تیار ہیں۔