ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین لندن میں گرفتار اسکاٹ لینڈ یارڈ نے تصدیق

June 12, 2019 1:00 pm0 commentsViews: 6

ا سکاٹ لینڈ یارڈ نے غیرمتوقع طور پر ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا‘تفتیش کیلئے پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا
برطانوی وقت کے مطابق صبح 8بجے گرفتار کیا گیا‘ بانی متحدہ کیخلاف کیس لندن میں ہی چلائے جانے کا امکان
لندن(مانیٹرنگ ڈیسک ) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کو لندن میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ نے لندن کے مقامی وقت کے مطابق صبح 8بجے بانی ایم کیو ایم کے گھر پر چھاپہ مارا اور ان کو حراست میں لے لیا‘ الطاف حسین کو گرفتار کرکے مقامی پولیس اسٹیشن لے جایا گیا جبکہ اس چھاپے کے دوران تقریبا 15 پولیس افسران نے حصہ لیا۔ذرائع کے مطابق الطاف حسین کو 3 گھنٹے قبل گرفتار کیا گیا اور پولیس ٹیم کی جانب سے ان کے گھر کی تلاشی لیگئی۔رپورٹس کے مطابق الطاف حسین کو مبینہ طور پر 2016 میں کی گئی نفرت انگیز تقریر سے متعلق کیس میں گرفتار کیا گیا۔خیال رہے کہ رواں برس اپریل میں برطانیہ کی میٹروپولیٹن پولیس کی 12 رکنی ٹیم نے ایم کیو ایم لندن کے قائد الطاف حسین کی 2016 کی متنازع تقریر سے متعلق کیس میں اپنی تفتیش مکمل کی تھی۔اس سلسلے میں برطانوی پولیس کیس میں ثبوتوں کے حصول اور گواہوں کے بیانات کے لیے پاکستان آئی تھی، اس تفتیش کے دوران سندھ پولیس حکام کی ٹیم کے 6 اراکین برطانوی پولیس کی انسداد دہشت گردی کمانڈ (ایس او 15) کے سامنے بطور گواہ پیش ہوئے تھے اور اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔کیس کی تفتیش کے دوران برطانوی پولیس کے ماہرین نے سندھ پولیس کے ان حکام کا انٹرویو کیا جو اس وقت صدر کراچی میں تعینات تھے جب 22 اگست 2016 میں الطاف حسین نے پاکستان مخالف تقریر کی تھی۔واضح رہے کہ کو ایم کیو ایم کے قائد کی اس تقریر کے بعد ان کی جماعت کے حامیوں نے کراچی پریس کلب کے قریب میڈیا ہائوسز پر مبینہ طور پر حملہ کیا تھا، پرتشدد کارروائیاں کی تھی اور گاڑیوں کو نذرآتش کیا تھا. تفتیش سے متعلق سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ برطانوی سی ٹی سی ٹیم کا مقصد 22 اگست 2016 کے واقعے کے اہم گواہوں سے تحریر بیان کو ثبوت کی شکل میں حاصل کرنا تھا‘برطانوی پولیس کی جانب سے حاصل کیے گئے ثبوتوں کو اس بات کا تعین کرنے کے لیے کرائون پروسیکیوشن سروس کے سامنے پیش کرنا تھا کہ آیا برطانوی عدالتوں میں الطاف حسین کے خلاف کارروائی کے آغاز کے لیے یہ کافی مواد ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اپنے سفارتخانے کے ذریعے الطاف حسین کے خلاف کریمنل کیسوں کے ثبوت اور دستاویزات برطانوی حکومت کے حوالے کیئے تھے جبکہ بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری کے بعد سے ایف آئی اے کا انسداد دہشت گردی ونگ برطانوی حکام سے رابطے میں ہے‘قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایڈمرل منصورالحق کیس کی طرح الطاف حسین کو بھی انٹرپول کے ذریعے پاکستان لایا جاسکتا ہے۔یاد رہے جنوری 2019 میں وزارتِ داخلہ نے بانی ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا، جس کے بعد حکومت ان کے خلاف کارروائی کے لیے برطانیہ سے جلد رابطہ کرے گی ، ذرائع کا کہنا تھا کہ علی رضا عابدی کے قتل میں بھی بانی ایم کیو ایم کے ملوث ہونے کا شبہ ہے. ذرائع کے مطابق بانی ایم کیو ایم کے خلاف 200 سے زائد مقدمات کا ریکارڈ برطانیہ بھجوایا جائے گا، ان پر الزام ہے کہ ایم کیو ایم کے منحرف راہنمائوں کو بانی ایم کیو ایم قتل کروانے میں ملوث ہونے کے الزمات رہے ہیں۔یاد رہے 2016 مین اسکاٹ لینڈ یارڈ نے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین سمیت دیگر راہنمائوں محمد انور، سرفراز مرچنٹ کے خلاف منی لانڈرنگ کیس ناکافی شواہد کی بنیاد پر ختم کردیا. واضح رہے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کیخلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب لندن پولیس ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس کے سلسلے میں 6 دسمبر2012کو متحدہ کے دفتر پہنچی اور چھاپے کے دوران، لاکھوں پائونڈ برآمد کیے‘بعد ازاں 18جون 2013 کو لندن پولیس نے الطاف حسین کے گھر کی تلاشی کے دوران اْن کی رہائش گاہ سے غیر قانونی خطیر پائونڈ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔