نیب اپنے کام خود کرے سپریم کورٹ سے کیوں کرانا چاہتا ہے, چیف جسٹس

July 11, 2019 12:18 pm0 commentsViews: 2

اگر مالک اور بے نامی دار خود کہہ رہے ہیں جائیداد ہماری نہیں تو نیب کے پاس کیا ثبوت ہے کہ وہ ہی مالک ہیں
الزام ثابت کرنا استغاثہ کی ذمہ داری ‘ریمارکس ،ایڈیشنل کلکٹر انکم ٹیکس اقبال احمد کی بریت کیخلاف نیب اپیل مسترد
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے کرپشن کے مبینہ ملزم کی بریت کیخلاف نیب کی اپیل خارج کرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ الزام ثابت کرنا استغاثہ کی ذمہ داری ہے۔دوران سماعت چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے سوال اٹھایا کہ نیب اپنے کام سپریم کورٹ سے کیوں کرانا چاہتا ہے ،الزام لگایا ہے تو ثابت کرنا بھی نیب کی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایڈیشنل کلکٹر انکم ٹیکس لاہور محمد اقبال احمد کی بریت کیخلاف نیب اپیل کی سماعت کی تو نیب پراسیکیوٹر نے دلائل د یتے ہوئے موقف اپنایا کہ ملزم محمد اقبال احمد نے 8 بے نامی جائیدادیں غیر قانونی طور پر خریدیں اور آگے فروخت کردیں۔ عدالت کے استفسار پر وکیل نے کہا بے نامی جائیدادوں کے مالک ملزم تھے جس پر چیف جسٹس نے نیب پراسیکیوٹر سے کہا یہ تو الزام ہے اس الزام کو ثابت کرنا آپ کا کام ہے ،ملزم ہی ان جائیدادوں کا مالک ہے اس کا کیا ثبوت ہے ؟۔چیف جسٹس نے کہا نیب اپنے کام سپریم کورٹ سے کیوں کروانا چاہتا ہے ، آپ کی اپنی حکومت ہے اپنے کام خود کریں، ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ آپ کے کام نہیں آئیں گے ، اگر مالک اور بے نامی دار خود کہہ رہے ہیں کہ جائیداد ہماری نہیں تو نیب کے پاس کیا ثبوت ہے کہ وہ ہی مالک ہیں۔چیف جسٹس نے نیب کے وکیل کو کہاآپ کی غلطی یہ ہے کہ 342 کے درست سوالات عدالت میں پیش نہیں کئے۔ عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کے دلائل سننے کے بعد نیب کی اپیل مسترد کر کے قرار دیا کہ استغاثہ الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا تاہم اگر ملزم کیخلاف کوئی اور مقدمہ ہے تو نیب اپنی تحقیقات جاری رکھے۔یاد رہے کہ احتساب عدالت نے محمد اقبال احمد کو 2006 میں 10 سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانہ کیا تھا لیکن ہائیکورٹ نے ملزم کو بری کر دیا تھا جس کیخلاف نیب نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔