پہلوان گوٹھ فائرنگ واقعہ بھتہ خوری کا شاخسانہ نکلا

July 11, 2019 12:39 pm0 commentsViews: 2

نامعلوم ملزمان 6 روز سے موبائل فون پر مختلف اوقات میں ریسٹورنٹ مالک سے 30 لاکھ بھتہ طلب کر رہے تھے
نذر دین بھتہ طلب کرنے والے شخص کی اطلاع پولیس کو دینے کے بجائے خود معلومات حاصل کر رہا تھا، پولیس
کراچی (کرائم رپورٹر) گلستان جوہر پہلوان گوٹھ میں ریسٹورنٹ پر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے 2 افراد کے قتل اور ایک شخص کو زخمی کرنے کا واقعہ بھتہ خوری کا شاخسانہ تھا، پولیس کے مطابق ریسٹورنٹ مالک سے 30 لاکھ بھتہ طلب کیا گیا تھا، ریسٹورنٹ مالک بھتہ طلب کرنے والے شخص کی اطلاع پولیس کو دینے کے بجائے خود معلومات حاصل کر رہا تھا، پولیس نے فائرنگ کے واقعہ کامقدمہ قتل، اقدام قتل، بھتہ خوری اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کرکے تفتیش شروع کردی۔ تفصیلات کے مطابق منگل کو گلستان جوہر تھانے کی حدود گلستان جوہر بلاک 9 پہلوان گوٹھ میں بسم اللہ بلال ریسٹورنٹ پرموٹر سائیکل سوار نامعلوم ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کی اور فرار ہو گئے فائرنگ کے نتیجے میں 2 افراد 45 سالہ عزیز الوہاب ولد سید حجاب اور 22 سالہ محمد نازک ولد غلام محمد جاں بحق اور 40 سالہ برکت علی ولد حیات علی زخمی ہوگیا۔ پولیس نے ریسٹورنٹ پر فائرنگ سے 2 افراد کے قتل اور ایک شخص کو زخمی کرنے کے واقعہ کا مقدمہ الزام نمبر 410/19 بجرم دفعہ 302، 324، 384، 385/34 اور دہشت گردی کی دفعہ 7 اے ٹی اے کے تحت ریسٹورنٹ مالک واثت ولد نظردین کی مدعیت میں درج کرلیا، ریسٹورنٹ مالک نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ 6 روز سے کوئی شخص موبائل فون پر مختلف اوقات میں ان کے والد نظردین کو فون کرکے 30 لاکھ روپے بھتہ طلب کر رہا تھا جس پر وہ اپنے طور پرمعلومات حاصل کر رہے تھے، انہوں نے اس کی اطلاع پولیس کو نہیں دی تھی منگل کو وہ ریسٹورنٹ کے کائونٹر پر بیٹھا ہواتھا کہ 8 بجے کے قریب 125 موٹر سائیکل پرسوار 2 مسلح ملزمان آئے اور ملزمان نے ان پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس پروہ چھلانگ لگا کر کائونٹر کے نیچے چھپ گیا فائرنگ سے کائونٹر کے پاس روڈ پر کھڑے 3 افراد زخمی ہوگئے جن میں سے دو افراد اسپتال پہنچ کر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے جبکہ ایک زیر علاج ہے۔ مدعی کا کہنا ہے کہ جس شخص نے بھتے کے لیے فون کیا تھا انہی ملزمان نے فائرنگ کی ہے، فائرنگ کے واقعہ میں جاں بحق محمد نازک کی میت آبائی علاقے رحیم یار خان روانہ کر دی گئی ہے جبکہ مقتول عزیزالوہاب کی نماز جنازہ بعد نماز ظہر پہلوان گوٹھ میں ادا کی گئی ہے اور مقتول کی تدفین پہلوان گوٹھ میں ہی کی گئی ہے۔