سرکاری اسپتالوں میں ٗ ادویات کی خریداری میں بے ضابطگیوں کا انکشاف

July 11, 2019 12:39 pm0 commentsViews: 3

سول اسپتال کراچی ٗ پیپلز میڈیکل کالج نوابشاہ ٗ سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی اور سعود آباد میں مجموعی طور پر 52 کروڑ 26لاکھ 92ہزار کی نشاندہی کی گئی ہے
4سال ہونے کے باوجود اینٹی کرپشن نے تحقیقات میں پیشرفت سے متعلق کوئی جواب نہیں دیا ٗ سیکریٹری صحت پر سندھ اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے ارکان برہم
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں سول اسپتال کراچی، پیپلز میڈیکل کالج نوابشاہ اور سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی اور سعود آباد میں ادویات کی خریداری سمیت دیگر معاملات میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا اور مجموعی طور 52 کروڑ 26 لاکھ 92 ہزار کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔ سندھ اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین غلام قادر چانڈیو کی زیر صدارت بدھ کو منعقدہ اجلاس میں آڈٹ پیراز 2009-10ء اور 2011ء کا جائزہ لیا گیا۔ پی اے سی نے ورکنگ پیپرز بروقت جمع نہ کرانے پر برہمی کا اظہار کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اینٹی کرپشن ان بے ضابطگیوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔ سیکرٹری صحت کا کہنا تھا کہ چار سال ہونے کے باوجود اینٹی کرپشن نے تحقیقات میں پیش رفت سے متعلق کوئی جواب نہیں دیا۔ جس پرپی اے سی نے برہمی کا اظہار کیا، کمیٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ چار سال گزرنے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی اس کا ذمہ دار کون ہے؟ سیکرٹری صحت سعید اعوان نے کہاکہ اینٹی کرپشن سے چیف سیکرٹری پوچھ سکتے ہیں ان کو خط لکھیں گے۔ پی اے سی کے ارکان کا کہنا تھا کہ صوبے کے اکثر اسپتالوں میں کتے کے کاٹے پر لگائے جانے والے انجکشن بھی موجود نہیں ہیں تاہم سیکرٹری صحت کا موقف تھا اسپتالوں میں یہ انجکشن موجود ہیں۔ جس پر چیئرمین نے کہاکہ لاڑکانہ، نوابشاہ کے ایم پی ایز یہاں پر موجود ہیں کیا وہ جھوٹ بول رہے ہیں؟ ایم ایس لاڑکانہ نے کہاکہ کتے کے کاٹے کے انجکشن بلیک مارکیٹ سے خریدے ہیں جو لاڑکانہ کے اسپتال میں موجود ہیں۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی سندھ نے 19 گریڈ کے افسر کو ایم ایس لاڑکانہ کی پوسٹ پر تعینات کرنے پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔ سیکرٹری صحت نے کہاکہ گریڈ 19 کے 12 ڈاکٹرز کی پروموشن کی سمری وزیراعلیٰ ہائوس کو ارسال کردی گئی ہے اس کے بعد گریڈ 20 کے افسر کو تعینات کیا جائے گا۔ سیکرٹری صحت سعید اعوان نے کہاکہ صوبے میں 20 گریڈ کے افسران کی کمی ہے جس کے باعث 19 گریڈ کے افسران ایم ایس تعینات کیے گئے ہیں۔