ارکان سندھ اسمبلی نے بھی پارکنگ فیس کی وصولی پر آواز بلند کردی

July 16, 2019 12:00 pm0 commentsViews: 5

پارکنگ کے نام پر جگہ جگہ 100 روپے لئے جاتے ہیں جس میں سے 50 روپے کا حصہ پولیس کو جاتا ہے، کے ڈی اے نے کلفٹن میں پارکنگ لاٹ کو ہوٹلز میں تبدیل کرادیا، عارف مصطفی جتوئی
شہر میں بڑی تیزی سے تجاوزات بڑھ رہی ہیں، رابعہ اظفر، بلدیاتی اداروں میں اختیارات کا کوئی تنازعہ نہیں، سعید غنی، قیوم آباد میں جگہ جگہ کچرے کے انبار ہیں، راجہ اظہر
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں شہریوں سے جگہ جگہ پارکنگ فیس کی وصولی اور شہر میں بڑھتی ہوئی تجاوزات پر ارکان سندھ اسمبلی نے بھی آواز بلند کردی، جی ڈی اے کے رکن عارف مصطفی جتوئی نے اس بات پر سخت برہمی کا اظہار کیا کہ کے ڈی اے نے کلفٹن میں پارکنگ لاٹ کو ہوٹلز میں تبدیل کرا دیا، پارکنگ کے نام پر جگہ جگہ سو روپے لیے جاتے ہیں جن میں سے 50 روپے کا حصہ پولیس کا ہوتا ہے۔ خاتون رکن رابطہ اظفر نے کہاکہ شہر میں بڑی تیزی سے تجاوزات بڑھ رہی ہیں اور اب کنٹونمنٹ کے علاقے بھی تجاوزات سے محفوظ نہیں رہے۔ پیر کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ بلدیات سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران ان عوامی مسائل پر ارکان نے بھرپور طریقے سے آواز اٹھائی۔ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہاکہ کراچی میں مختلف ادارے اپنی اپنی حدود میں تجاوزات کے خاتمے کے مجاز ہیں، بلدیاتی اداروں میں اختیارات کا کوئی تنازع نہیں۔ ایم کیو ایم کی خاتون رکن رابعہ اظفر نے کہاکہ پرائیویٹ پلاٹ پر پارکنگ فیس کا کیا طریقہ ہے وہ ہمیں نہیں معلوم اور اس وقت شارع فیصل پر بھی تجاوزات قائم ہیں۔ پی ٹی آئی کے رکن جمال صدیقی نے جمشید ٹائون میں کچرے کے ڈھیر کی نشاندہی کی، سعید غنی نے کہاکہ ابھی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ہر گھر سے کچرا نہیں اٹھا رہا، کراچی میں ہر جگہ سے کچرا اٹھانا ہماری ذمہ داری نہیں مگر پھر بھی یہ کام کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے رکن راجہ اظہر نے کہاکہ قیوم آباد میں جگہ جگہ کچرے کے انبار ہیں ضلع کورنگی لاوارث بنا ہوا ہے، سعید غنی نے کہاکہ کورنگی میں کچرے کے ڈھیر اٹھانے کے لیے ڈپٹی کمشنرز کو ذمہ داری دی گئی ہے۔